رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان: شراکت اقتدار پر دستخط، اشرف غنی نئے صدر


ہفتے کو دیر گئے شراکت اقتدار کے معاہدے پر اتفاق ہوا تھا جس پر اتوار کی دوپہر دونوں صدارتی امیدواروں نے دستخط کیے۔

افغانستان میں صدارتی امیدواروں نے شراکت اقتدار کے معاہدے پر دستخط کر دیے جس کے تحت اشرف غنی ملک کے صدر جب کہ عبداللہ عبداللہ ملک کے لیے چیف ایگزیکٹو نامزد کریں گے۔

اتوار کو کابل میں ہونے والی ایک تقریب میں اس معاہدے پر دونوں نے دستخط کیے، مصافحہ اور ایک دوسرے سے گلے ملے۔ یہ تقریب صدارتی محل میں منعقد ہوئی جہاں موجودہ صدر حامد کرزئی بھی موجود تھے۔

قومی اتحاد والی حکومت تشکیل دینے کے معاہدے پر دستخط کے ساتھ ہی 14 جون کو صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے کے بعد کھڑے ہونے والے تنازع کا اختتام ہو گیا جو کہ تاریخ میں پہلی بار ملک میں جمہوری انتقال اقتدار کے لیے ایک خطرہ تصور کیا جارہا تھا۔

اپریل میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں کوئی بھی امیدوار فتح کے لیے درکار 50 فیصد ووٹ حاصل نہیں کر سکا تھا جس کے بعد سب سے زیادہ ووٹ لینے والے دو امیدواروں کے لیے انتخابات کے دوسرے مرحلے کا انعقاد 14 جون کو کیا گیا۔

دوسرے مرحلے کے ابتدائی نتائج میں اشرف غنی کو تقریباً 56 فیصد ووٹ ملے تھے لیکن عبداللہ عبداللہ نے دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے نہ صرف نتائج کو ماننے سے انکار کیا بلکہ اپنے فاتح ہونے کا اعلان بھی کر دیا۔

اس تنازع کے حل کے لیے امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے افغانستان کا رخ کیا اور حریفوں کے درمیان اختلاف کا موزوں حل تلاش کرنے کی کوشش کی۔

بعد ازاں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی دوسرے مرحلے میں ڈالے گئے تمام 80 لاکھ ووٹوں کی جانچ پڑتال کا عمل شروع کیا گیا اور اس سے اخذ کیا جانے والا نتیجہ بھی اتوار کو جاری کیا جانا ہے۔

افغان امور پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی کے نزدیک شراکت اقتدار کا معاہدہ سیاسی تنازع کے حل کے لیے خوش آئند ہے لیکن ان کے بقول اس پر عمل درآمد میں وقت کے ساتھ ساتھ مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے پر عملدرآمد اپنی جگہ ایک چیلنج ثابت ہوسکتا ہے۔

"اس طرح کا معاہدہ اس طرح اقتدار کی شراکت افغانستان میں پہلے کبھی نہیں ہوئی اور یہ چیف ایگزیکٹو آفیسر کا عہدہ بھی افغان آئین میں نہیں ہے، عبداللہ عبداللہ یا ان کا نمائندہ چیف ایگزیکٹو ہوگا جو وزیراعظم کے برابر ہوگا لیکن افغانستان میں صدارتی نظام ہے سارے اختیارات صدر کے پاس ہیں اور اشرف غنی صدر ہوں تو وہ اپنے اختیارات استعمال کریں گے لیکن ڈاکٹر عبداللہ یا ان کے نمائندے جو اختیارات استعمال کریں گے اس پر پیچیدگیاں ہوں گی اور میرا خیال ہے اس پر عملدرآمد ایک چیلنج ہوگا۔"

امریکہ نے افغانستان کے ساتھ ایک دوطرفہ سکیورٹی معاہدہ بھی تجویز کر رکھا ہے جس کے تحت 2014ء میں بین الاقوامی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد ایک محدود تعداد میں امریکی فوجی اس ملک میں رہتے ہوئے مقامی سکیورٹی فورسز کو انسداد دہشت گردی کی تربیت اور معاونت فراہم کریں گے۔

لیکن صدر حامد کرزئی نے اس معاہدے پر یہ کہہ کر دستخط نہیں کیے تھے کہ اس کی توثیق نئے افغان صدر کریں گے۔

شراکت اقتدار کا معاملہ طے ہونے کے بعد اب توقع کی جارہی ہے کہ نئے صدر اشرف غنی امریکہ کے ساتھ سلامتی کے دوطرفہ معاہدے پر بھی جلد دستخط کردیں گے جس کا عندیہ وہ انتخابی مہم کے دوران پہلے ہی دے چکے ہیں۔

ادھر پاکستان نے افغانستان میں شراکت اقتدار کے لیے دونوں حریف امیدواروں کے درمیان اتفاق کا خیر مقدم کیا ہے۔

دفتر خارجہ کی طرف سے اتوار کو جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان افغانستان میں پرامن جمہوری انتقال اقتدار کی حمایت کے عزم پر قائم ہے اور معاہدے پر دستخط کو ایک مثبت پیش رفت سمجھتا ہے۔

XS
SM
MD
LG