رسائی کے لنکس

logo-print

ہلالِ احمر کے دفتر پر حملے میں ملوث نہیں، طالبان


افغان طالبان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ و ہ ان تنظیموں کو نشانہ نہیں بناتے جو حقیقی معنوں میں "عوام کی خدمت" کرتے ہیں۔

افغان طالبان نے رواں ہفتے جلال آباد میں عالمی امدادی ادارے 'ہلالِ احمر' کے دفتر پر ہونے والے حملے میں اپنے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

افغان طالبان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ و ہ ان تنظیموں کو نشانہ نہیں بناتے جو حقیقی معنوں میں "عوام کی خدمت" کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ افغان صوبے ننگر ہار کے صدر مقام میں قائم 'ریڈ کراس' کے دفتر پر بدھ کو چار مسلح افراد نے حملہ کیا تھا جن میں سے دو نے اپنے جسموں سے بارودی مواد باندھ رکھا تھا۔

حملے میں دفتر کاایک محافظ مارا گیا تھا جب کہ افغان پولیس نے دفتر میں موجود عملے کے سات غیر ملکی افراد کو عمارت سے بحفاظت نکال لیا تھا۔

بعد ازاں افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کے بعض سینئر افسران نے برطانوی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کو بتایا تھا کہ نیٹو حکام کو یقین ہے کہ حملے میں طالبان ملوث تھے۔

جمعے کو اپنے بیان میں طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے کہا ہے کہ "اماراتِ اسلامیہ" نے کبھی عام شہریوں اور ان (تنظیموں یا افراد) پر حملے نہیں کیے جو لوگوں کی حقیقی خدمت کرتےہیں۔

طالبان اپنی تنظیم کے لیے بھی 'اماراتِ اسلامیہ' کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں جو وہ 2001ء میں افغانستان پر امریکہ کے حملے سے قبل اپنی حکومت کے لیے استعمال کیا کرتے تھے۔

حملے کے بعد 'ہلالِ احمر' نے جلال آباد میں اپنی سرگرمیاں معطل کردی ہیں جب کہ افغانستان بھر میں موجود اپنے رضاکاروں اور ملازمین کو سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے۔

اس سے قبل رواں ہفتے کے آغاز میں شدت پسندوں نے کابل میں اقوامِ متحدہ سے منسلک ایک بین الاقوامی امدادی ادارے کے دفتر پر بھی حملہ کیا تھا جس میں تین افراد مارے گئے تھے۔
XS
SM
MD
LG