رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان: طالبان کا غزنی شہر پر حملہ،سیکورٹی فورسز سے جھڑپیں جاری


فائل فوٹو

افغان طالبان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل سے تقریباً 150 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع غزنی شہر پر جمعرات کی رات حملہ کیا اور طالبان باغیوں کی گروپ اور افغان سیکورٹی فورسز کے درمیان جمعے کی صبح تک جھڑپیں جاری تھیں۔

صوبائی کونسل کے رکن امان اللہ اور شہر کے مکینوں کے مطابق " ایک مرحلے پر دونوں فریقوں کے درمیان شہر کے مرکز میں لڑائی جاری تھی جہاں سرکاری عمارتیں بشمول افغان نیشل دائریکٹوریٹ فار سیکورٹی کا دفتر واقع ہیں۔ "

صوبائی پولیس کے سربراہ جنرل فرید مشال کے مطابق حکومت کی طرف سے بھیجی جانے والی افغان اسپیشل فورسز نے طالبان کو شہر کے نواح میں دھکیل دیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ طالبان عام شہری علاقوں میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے جس کی وجہ سے سیکورٹی فورسز کے لیے کارروائی کرنا مشکل ہو گیا تھا ۔ شہر کے مکینوں کا کہنا ہے کہ شہر کے دوسرے علاقے میں لڑائی جاری ہے۔

افغانستان میں تعینات امریکی فورسز کی طرف سے ٹوئٹر پر جاری ہونے والے بیان کے مطابق امریکی فورسز کی طرف سے فضائی مدد فراہم کی گئی اورافغان فورسز نے اپنی جگہ پر موجود رہتے ہوئے شہر میں سرکاری علاقے پر اپنا کنڑول قائم رکھا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے یہ طالبان کی طرف سے علاقے پر قبضہ کرنے کی ایک اور ناکام کوشش تھی۔

دوسری طرف افغان سیکورٹی فورسز کی طرف سے ٹوئٹر یبان میں کہا گیا ہے کہ ان کی طرف سے کی جانے والی کارروائی کی وجہ سے طالبان کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا اور ضلع کا مرکز ان کے کنڑول میں ہے۔

غزنی شہر سے گزرنے والی کابل قندہار شاہراہ بند ہے اور طالبان نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے میدان وردک اور غزنی کے قریب شاہراہ کو بند کر کر کے وہاں اور دیگر کئی مقامات پر چوکیاں قائم کر دیں۔

افغان وزارت دفاع کے ترجمان محمد رادمنش نے خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ فوج مقامی پولیس کی مدد کر رہی ہے اور شہر پر سیکورٹی فورسز کا کنٹرول ہے۔

ایسوسی ایٹد پریس کی رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں زخمی ہونے والے سیکورٹی فورسز کے 9اہلکار ایک مقامی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

ذرائع ابلاغ کو بھیجے گئے ایک پیغام میں طالبان نے کہا کہ جمعرات کی رات کو غزنی صوبے کے مرکز میں انہوں نے درجنوں بڑے حملے کیے اور انہوں نے بڑی تعداد میں ہتھیار اور گولہ بارود قبضے میں لینے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے ایک بڑی تعداد میں سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے تاہم طالبان کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

رواں ماہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر ممکنہ جنگ بندی کی باتوں کے باوجود افغانستان کے کئی علاقوں میں شدید لڑائی جاری ہے۔ دو ماہ قبل افغانستان میں 17 سال کے دوران ہونے والی پہلی عارضی جنگ بندی کے دوران طالبان جنگجوؤں نے شہروں کا رخ کیا اور انہوں نے افغان سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کے ساتھ سیلفی بنوائی تھیں۔

افغان حکام نے طالبان کے ساتھ ہونے والی لڑائی کے دوران ہلاک یا زخمی ہونے والے اہلکاروں کے بارے میں اعدادوشمار جاری کرنا روک دیا ہے۔ گزشتہ سال افغانستان میں تعمیر نو کے امریکی حکومت کے ایک اعلیٰ ترین نگران ادارے اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغان ری کنسٹرکشن (سگار) کی طرف سے ہلاک و زخمی ہونے والوں کی تعداد کو "تشویشناک طور پر بہت زیادہ قرار دیا۔"

افغانستان میں امن و مصالحت کا عمل شروع کرنے کی کوششوں کے حوالے سے حال ہی میں امریکی عہدیداروں اور افغان طالبان کے درمیان براہ راست رابطوں کی اطلاعات منظر عام پر آ چکی ہیں۔ طالبان ایک عرصے سے کابل کی " کٹھ پتلی حکومت " سے بات چیت کرنے کی بجائے امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔

رواں ہفتے قبل ازیں امریکہ کے وزیر دفاع جم میٹس نے کہا کہ امن مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے طالبان کو دباؤ کا سامنا ہے۔ تاہم انہوں نے ایک بار پھر یہ بات دھرائی کہ یہ مذاکرات صرف " افغانوں کی قیادت اور ان کی شمولیت " ہی میں ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG