رسائی کے لنکس

logo-print

افغان شہروں میں خودکش حملے بند کرنے کا کوئی ارادہ نہیں: طالبان


فائل

طالبان نے اِن خبروں کی تردید کی ہے جن میں بتایا گیا تھا کہ شہری آبادی کے جانی نقصان کو بچانے کے لیے اُنھوں نے افغانستان میں خودکش حملے بند کر دیے ہیں۔

اسلامی سرکش گروپ ’نیویارک ٹائمز‘ اخبار کے مضمون کا جواب دے رہے تھے، جس میں کہا گیا تھا کہ طالبان رہنماؤں نے اپنے لڑاکوں کو حکم دیا ہے کہ وہ افغان شہروں میں خودکش حملوں سے احتراز کریں، جب کہ ایسے خودکش حملوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں کا ریکارڈ جانی نقصان ہوا ہے۔

خصوصی رپورٹ میں طالبان ترجمان، ذبیح اللہ مجاہد کا حوالہ دیتے ہوئے باغیوں کی حکمت عملی میں تبدیلی کی تصدیق کی گئی تھی۔

مجاہد نے اپنے سے منسوب کلمات کی تردید کی اور امریکی اخبار پر اُن کے بیان کو ’’غلط طور پر‘‘ یا ’’بدنیتی کی بنا پر توڑ مروڑ کر‘‘ پیش کرنے کا الزام لگایا ہے۔

طالبان ترجمان نے کہا کہ اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں خودکش حملوں کو بند کرنے کا معاملہ آیا ہی نہیں تھا

مجاہد نے کہا کہ خودکش حملے تفصیلی چھان بین کے بعد کیے جاتے ہیں جس میں فوجی اہداف کی شناخت کی کی جاتی ہے، جہاں کہیں بھی یہ موجود ہوں، تاکہ افغان شہری آبادی کو نقصان پہنچنے کا امکان باقی نہ رہے۔

طالبان ترجمان نے کہا کہ ’’یہی سبب ہے کہ شہروں میں (باغیانہ) کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں وقت لگتا ہے، انھیں جلدبازی میں نہیں کیا سکتا‘‘۔

مجاہد نے مزید کہا کہ ’’اللہ نے چاہا تو یہ (خودکش) حملے کیے جائیں گے، جوں جوں اہداف کا تعین ہوگا‘‘۔

اسی ہفتے کے اوائل میں اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ سال 2018کی پہلی شش ماہی کے دوران افغان تنازع میں تقریباً 1700 شہری ہلاک ہوئے، جو گذشتہ دہائی کے دوران اکٹھے کیے گئے شمار کے لحاظ سے سب سے بڑا عدد ہے۔

گذشتہ ماہ، طالبان نے عیدالفطر کے سہ روزہ جشن کے موقعے پر مختصر مدت کے لیے مخاصمانہ کارروائیاں بند کردی تھیں، جس سے یہ امید ہو چلی تھی کہ مذاکرات کے ذریعے افغان لڑائی کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

طالبان کو امن مذاکرات کی جانب متوجہ کرنے کے لیے باغیانہ عناصر سے جنگ بندی کے ساتھ مخاصمانہ کارروائیاں بند کرنے کا اعلان کیا گیا۔ لیکن، یکطرفہ سرکاری لڑائی رکنے کے اعلان کے بعد طالبان زیادہ شدت کے ساتھ دوبارہ میدان ِجنگ میں آئے، جب کہ افغان سکیورٹی افواج کو سخت جانی نقصان پہنچایا گیا ہے۔

سرکشوں نے کابل حکومت سے بات چیت کی پیش کش بھی مسترد کر دی ہے، ساتھ ہی امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔

’وائس آف امریکہ‘ سے بات کرتے ہوئے، افغانستان میں برطانیہ کے سفیر، سر نکولس کئے نے طالبان کی جانب سے خودکش بم حملے روکنے سے متعلق معاملے پر براہ راست بیان نہیں دیا۔ لیکن، باغیوں پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں مہلک لڑائی کا پُرامن تصفیہ کیا جاسکے۔

ادھر، افغان خبر رساں ادارے، ’پژواک‘ نے طالبان ترجمان ذبیح اللہ کے حوالے سے کہا ہے کہ باغیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ شہروں میں خودکش حملے بند کریں، جن سے شہری آبادی کو نقصان پہنچنے کا امکان ہوتا ہو۔

طالبان اور افغان حکومت کے مابین جنگ بندی 17 جون کو ختم ہوئی تھی۔ پژواک نے بتایا ہے کہ جب اُن سے رابطہ کیا گیا تو مجاہد نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اُن کی نیو یارک ٹائمز سے کوئی بات ہوئی ہے۔

نیو یارک ٹائمز کی خبر میں صدارتی ترجمان شاہ حسین مرتضوی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے بعد شہروں میں طالبان حملوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔

ادھر، ’خامہ پریس‘ کی خبر کے مطابق، طالبان نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ گروپ کی قیادت نے شہروں میں خودکش حملے بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

تردید میں کہا گیا ہے کہ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں اُنھوں نے اُن سے منسوب رپورٹ کو غلط قرار دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اُن کا گروپ شہروں میں مزید خود کش حملے نہیں کرے گا۔

اس سے قبل، ’نیو یارک ٹائمز‘ نے افغان حکام اور طالبان کے حوالے سے کہا تھا کہ طالبان باغی افغانستان میں عام شہری اہداف کو نشانہ بنانے سے گریز کر رہے ہیں۔

اخبار کے مطابق، اسے افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا ہے کہ طالبان قیادت نے "جنگجووں کو ہدایت دی ہے کہ وہ شہروں میں حملے نہ کریں، تاکہ عام شہری ہلاک و زخمی نہ ہوں۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG