رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان کا افغانستان میں نئی عسکری کارروائیوں کا اعلان


طالبان کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چار ملکوں پر مشتمل گروپ کی جانب سے طالبان عسکریت پسندوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش جاری ہیں۔

افغان طالبان نے موسم بہار کی آمد کے موقع پر افغانستان میں اپنی نئی عسکری کارروائیاں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جسے انھوں نے 'عمری آپریشن' کا نام دیا ہے۔

ذرائع ابلاغ کو بھیجے گئے ایک پیغام میں طالبان نے کہا کہ انھوں نے یہ آپریشن اپنے بانی رہنما ملا عمر کے نام پر شروع کیا ہے جن کا انتقال تین سال قبل ہوا تھا۔

منگل کو جاری ہونے و الے بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائیاں ان کی پندرہ سالہ جدوجہد کا حصہ ہے جو "امریکی مداخلت کے خلاف شروع ہوئی تھی " اور جو طالبان کے بقول افغانستان میں "اسلامی نظام قائم کرنے کے لیے" ہے۔

طالبان کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چار ملکوں پر مشتمل گروپ کی جانب سے طالبان عسکریت پسندوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش جاری ہیں۔

تاہم طالبان کی بڑھتی ہوئی عسکری کارروائیوں کے باعث افغان حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کی کوششیں تاحال سودمند ثابت نہیں ہوئی ہیں۔

بعض افغان اور پاکستانی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ طالبان کی نئی کارروائیوں کے آغاز کے بعد اب افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مستقبل قریب میں بظاہر بات چیت کے امکانات کم ہی نظر آتے ہیں۔

افغانستان میں پاکستان کے سابق سفارت کار رستم شاہ مہمند نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ بظاہر یہ لگتا ہے کہ لڑائی میں اضافہ ہو گا۔

’’بات چیت کے امکانات نہیں ہیں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ لڑائی میں وسعت آئے گی اور یہ اور زیادہ ہو گی اور پھیلتی رہے گی اور بات چیت کا فی الحال کوئی امکان نہیں نظر آتا ہے۔‘‘

افغان تجزیہ کار ہارون میر کہتے ہیں کہ طالبان کی طرف سے مزید علاقوں تک اپنا کنٹرول بڑھانے کی یہ نئی کوشش ہے۔

’’ہارون میر کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں آئندہ کم از کم پانچ چھ ماہ کے دوران اور موسم سرم کے شروع ہونے تک افغانستان بات چیت کا کوئی مکان نہیں ہے اور اس دوران دونوں فریق کسی بھی ممکنہ بات چیت کے لیے اپنی اپنی پوزیشن بہتر کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘

افغان مصالحتی عمل کی بحالی کے لیے پاکستان، افغانستان، چین اور امریکہ پرمشتمل چار فریقی گروپ کے نمائندوں کے درمیان مشاورت کے چار اجلاس ہو چکے ہیں۔

اس گروپ کی کوششوں کے بعد افغان حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کی توقع کی جا رہی تھی، تاہم طالبان اپنی پشیگی شرائط کی منظوری کے بغیر افغان حکومت سے بات چیت کرنے سے انکاری ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ سال افغانستان میں ہوئی عسکری کارروائیوں کے دوران 11 ہزار عام شہری ہلاک و زخمی ہوئے۔

گزشتہ سال ملا عمر کے وفات کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد مختلف طالبان کے درمیان اندرونی لڑائی کی بھی اطلاعات آتی رہی ہیں تاہم طالبان کے ایک بڑے دھڑے کی قیادت اب ملا منصور کر رہے ہیں جو ملا عمر کے نائب کے طور پر بھی کام کرتے رہے تھے۔

جب سے وہ طالبان کے امیر بنے ہیں، عسکری کارروائیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور حالیہ مہینوں میں طالبان جنگجوؤں نے ملک کے مختلف علاقوں میں متعدد کارروائیاں کی ہیں جس میں خصوصی طور پر جنوبی صوبہ ہلمند کا علاقہ بھی شامل ہے جو طالبان کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG