رسائی کے لنکس

logo-print

دوحہ امن مذاکرات کا اگلا دور پانچ جنوری سے شروع ہو گا


دوحہ میں طالبان وفد کے ارکان مذاکرات کے موقع پر افغان حکومت کے وفد سے مصافحہ کر رہے ہیں۔ 10 دسبمر 2020

افغانستان میں افہام و تفہیم کی قومی کونسل کے اہل کاروں کا کہنا ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان ہونے والی بات چیت کی بنیاد پر توقع ہے کہ امن بات چیت کا اگلا دور 5 جنوری، 2021 کو ہو گا۔

کونسل کے ترجمان فریدوم خازون نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ دونوں فریقوں کی ٹیموں نے امن بات چیت کے ایجنڈے کی فہرست کا تبادلہ کیا ہے اور بات چیت میں 22 دن کے تعطل سے قبل ایجنڈے کے نکات پر گفتگو کی ہے۔

دوحہ میں طالبان کے ترجمان نعیم کا کہنا ہے کہ دونوں فریق 14 دسمبر کو بات چیت کا سلسلہ روک کر 5 جنوری سے دوبارہ شروع کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق افغان حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے کچھ ارکان گزشتہ ہفتے دوحہ سے کابل واپس پہنچے تھے، جب کہ بقیہ ارکان آج پیر کے روز واپس آ رہے ہیں۔

دریں اثنا افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ وہ افغان نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کے سربراہ حمیداللہ محب کے اس مؤقف کی پر زور تائید کرتے ہیں کہ امن بات چیت کے اگلے دور کا انعقاد افغانستان میں کیا جائے۔ تاہم طالبان نے اس بارے میں فی الحال کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔

افغان حکومت اور طالبان کے وفود کے درمیان دوحہ میں مذاکرات کا ایک منطر۔ یکم دسمبر 2020
افغان حکومت اور طالبان کے وفود کے درمیان دوحہ میں مذاکرات کا ایک منطر۔ یکم دسمبر 2020

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر امن بات کے اگلے دور کا انعقاد افغانستان میں ممکن نہیں ہے۔

تجزیہ کاروں کی کہنا ہے کہ دونوں فریقوں کی مذاکراتی ٹیموں نے 80 روز تک جاری رہنے والی بات چیت کے دوران امن بات چیت کے ایجنڈے کے 21 نکات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

افغانستان کیلئے ریزولیوٹ مشن نے جنرل سکاٹ ملر کے بیان کے حوالے سے کہا ہے کہ اگر طالبان پر تشدد حملوں میں کمی نہیں کرتے تو افغانستان میں امن بحال ہونے کے بارے میں خدشات موجود ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG