رسائی کے لنکس

logo-print

عبدالرشید دوستم بم دھماکے میں بال بال بچ گئے


افغانستان کے سیکیورٹی اہلکار بم دھماکے کے مقام کا معائنہ کر رہے ہیں۔

افغانستان کے نائب صدر عبدالرشید دوستم آج وطن واپسی پر کابل ہوائی اڈاے پر ہونے والے بم دھماکے میں بال بال بچ گئے ہیں۔ وہ سیاسی مخالفین پر ظلم و زیادتی کے الزامات کے تناظر میں ایک سال سے زائد عرصے تک ترکی میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے کے بعد آج اتوار کے روز وطن واپس پہنچے تھے۔

افغانستان کے نائب صدر عبدالرشید دوستم کابل پہنچنے کے بعد ہوائی اڈے سے باہر آ رہے ہیں۔
افغانستان کے نائب صدر عبدالرشید دوستم کابل پہنچنے کے بعد ہوائی اڈے سے باہر آ رہے ہیں۔

دوستم کابل ہوائی اڈے سے باہر آنے کے بعد گاڑیوں کے ایک قافلے میں جب روانہ ہوئے تو عین اسی وقت زور دار بم دھماکہ ہوا جس میں پولیس ذرائع کے مطابق کم سے کم 14 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے اور اُن کے دفتر کے کمپاؤنڈ پہنچنے پر اُن کے حامیوں نے اُن کا پر جوش استقبال کیا۔

افغانستان میں اس سال اکتوبر میں پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں جس کے بعد آئیندہ برس افغانستان میں صدارتی انتخاب ہو گا۔ تاہم سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ کابل میں حالیہ بم دھماکوں سے افغانستان میں نازک اور غیر مستحکم سیاسی صورت حال کا اندازہ ہوتا ہے۔

2016 میں دوستم کے ایک سیاسی مخالف احمد اشچی نے الزام لگایا تھا کہ عبدالرشید دوستم کے کہنے پر اُن کے محافظوں نے اُنہیں اغوا کر کے دوستم کے گھر پر پانچ دن تک قید رکھا اور اُن پر ظلم و زیادتی کرتے رہے۔

محمد اشچی زیادتی کے دوران ٹانگ پر آنے والے زخم کے بارے میں بتا رہے ہیں۔
محمد اشچی زیادتی کے دوران ٹانگ پر آنے والے زخم کے بارے میں بتا رہے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق دوستم نے ان الزامات کی صحت سے انکار کیا۔ تاہم جب اُن پر بین الاقوامی دباؤ بڑھتا گیا کہ وہ خود کو قانون کے حوالے کر دیں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں تو وہ مئی 2017 میں ترکی چلے گئے جہاں وہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔

جلاوطنی کے دوران بھی افغانستان کے شمالی اذبک علاقے میں اُن کی حمایت مضبوط رہی۔ ترکی میں قیام کے دوران اُنہوں نے تاجک رہنما عطا محمد نور اور اقلیتی ہزارہ برادری کے لیڈر محمد محقق کے ساتھ اتحاد قائم کر لیا۔ یہ دونوں رہنما بھی دوستم کی وطن واپسی کے وقت کابل ہوائے اڈے پر موجود تھے۔

دوستم 2014 میں ہونے والے انتخابات میں افغانستان کے صدر اشرف غنی کے اتحادی تھے اور اُنہوں نے اشرف غنی کیلئے اذبک ووٹ حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG