رسائی کے لنکس

افغان جنگ میں دس برس کے دوران ایک لاکھ سے زائد شہری ہلاک ہوئے، اقوام متحدہ


ایک افغان شہری کابل میں کار بم حملے کے بعد تباہ شدہ عمارت کے باہر کھڑا ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2016 میں اپنی صدارتی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ افغانستان میں جاری جنگ کو ختم کر دیں گے۔ اس سال کے دوران امریکہ کے سرکاری اہلکاروں اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان کبھی بات چیت جاری رہی اور کبھی یہ تعطل کا شکار ہوئی۔ تاہم، ملک میں تشدد جاری رہا جس سے افغان شہریوں اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں بھی ہوتی رہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ افغانستان کی جنگ میں گذشتہ دس برسوں کے دوران ایک لاکھ سے زائد شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔ اقوام متحدہ نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان میں 18 سال سے جاری لڑائی کو ختم کرنے اور امن بحال کرنے کیلئے اپنی کوششوں کو تیز کریں۔

اقوام متحدہ کی طرف سے یہ بیان جمعرات کے روز شمالی صوبہ بلخ میں طالبان کی طرف سے دس افغان فوجیوں کو ہلاک کرنے کے بعد آیا ہے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن کے سربراہ تادامیچی یاماموتو نے ایک بیان میں افسوس کا اظہار کیا کہ بے گناہ شہری بدستور اس جنگ کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔

یوں سوال یہ ہے کہ افغانستان میں جنگ کے خاتمے اور امن کی بحالی کیلئے اب تک کی جانے والی کوششیں کس حد تک کامیاب ہوئی ہیں۔

ملا غنی برادر کی سرکردگی میں طالبان وفد مذاکرات کیلئے آ رہا ہے۔ فائل فوٹو
ملا غنی برادر کی سرکردگی میں طالبان وفد مذاکرات کیلئے آ رہا ہے۔ فائل فوٹو

فروری 2019 میں امریکہ اور طالبان اہلکاروں کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر بات چیت ہوئی جس میں امریکہ کے افغان امن عمل کیلئے خصوصی نمائندے، زلمے خلیل زاد اور طالبان کے شریک بانی ملا غنی برادر کے درمیان پہلی بار دوحہ میں ملاقات ہوئی۔ تمام فریقین اس ملاقات سے اچھے نتائج کی توقع کر رہے تھے۔ تاہم، یہ ملاقات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئی۔

افغانستان میں تشدد جاری رہا اور تخریب کار گروپ طالبان نے اس وقت تک فائر بندی کا اعلان کرنے سے انکار کیا جب تک امریکہ کے ساتھ کوئی امن سمجھوتا طے نہ پا جائے۔

امریکی ایوان نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سربراہ ایڈم شیف کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں طالبان پر تشدد کارروائیوں کو بڑھاتے ہوئے اور بات چیت میں سخت رویہ اپناتے ہوئے سودی بازی میں اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو کا کہنا ہے کہ ہم نے گذشتہ دس روز کے دوران کئی ہزار طالبان کو ہلاک کیا ہے۔ لیکن، ہمیں کسی وقت مذاکرات کی میز پر واپس پہنچنا ہی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں دونوں فریقین کی طرف سے تشدد میں اضافہ کرنا مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا بہترین طریقہ نہیں ہو سکتا۔

ستمبر کے شروع میں امن سمجھوتہ طے پا جانے کی خاصی امید پیدا ہوئی تھی۔ تاہم، تشدد کی ایک نئی لہر اور اس میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک مذاکرات معطل کر دیے۔ اسی ماہ کے دوران امریکی نمائندہ خصوصی، زلمے خلیل زاد کو کہا گیا کہ امریکی کانگریس کے نمائندوں اور امریکی عوام کو بات چیت کی صورت حال سے آگاہ کریں۔ ایوان نمائندگان کے رپبلکن رکن مائیکل والٹز کہتے ہیں کہ وہ ہمیشہ سے باآواز بلند عوام کو اور صدر ٹرمپ کو یہ کہتے آئے ہیں کہ مذاکرات کی میز پر افغان حکومت کو بھی شامل ہونا چاہئیے اور اگر طالبان اس بات پر رضامند نہیں ہوتے تو یہ ان کا مسئلہ ہے۔

ڈیموکریٹک کانگریس مین، کریسی ہولاہن کا کہنا ہے کہ مذاکرات بڑی حد تک یک طرفہ تھے اور اس میں محدود لوگوں کے بجائے زیادہ لوگوں کو شامل کیا جانا چاہئیے۔

نومبر میں افغانستان کے دورے کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کر دیے ہیں۔ تاہم، جب طالبان نے کابل کے بگرام فضائی اڈے پر خود کش حملہ کیا تو یہ بات چیت ایک بار پھر معطل کر دی گئی۔

زلمے خلیل زاد نے ایک ٹویٹ میں کہا، ’’طالبان کو یہ باور کرانا ہوگا کہ وہ افغانیوں کی طرف سے امن کی خواہش کیلئے رضامندی کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔

وائس آف امریکہ کی طرف سے ایک سوال کے جواب میں امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ ایک سیاسی حل کے ذریعے ہی ممکن ہوگا۔

اب جبکہ سال 2019 اختتام کی جانب گامزن ہے، دوحہ میں امن مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور امریکی نمائندے، زلمے خلیل زاد آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کیلئے افغان رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

نئے سال میں فائر بندی اور افغانستان کے تمام فریقین کی امن مذاکرات میں شرکت کی توقع ہے جس میں طالبان اور حکومتی نمائندے ایک ساتھ مل کر بات چیت کے ذریعے ممکنہ طور پر افغانستان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں لائحہ عمل طے کریں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG