رسائی کے لنکس

logo-print

افغان جنگ نجی شعبے کو دینے کی تجویز مسترد


افغان سیکیورٹی فورسز اور نیٹو فوجی سپلائی کے ان ٹرکوں کے گرد جمع ہیں جو طالبان کے حملے کا نشانہ بنے۔ فائل فوٹو

افغانستان کی حکومت نے باضابطہ طور پر ایک امریکی کمپنی کی اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے خلاف قانون قرار دے دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ افغانستان کی 17 سالہ جنگ کو نجی شعبے کے سپرد کر دیا جائے۔

حکومت کے اس اعلان کے ساتھ ہی اس مسئلے پر جاری تندو تیز بحث مباحثے کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

امریکہ کی ایک کاروباری شخصیت ایرک پرنس نے گزشتہ ہفتے کابل کے ٹیلی وژن پر ایک تجویز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ طالبان کے خلاف جنگ میں حکومت غیر ملکی کنٹریکٹرز کو افغان فورسز کی مدد کرنے کی اجازت دے دے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس طرح یہ جنگ چھ مہینوں میں ختم ہو سکتی ہے۔

پرنس کے اس تازہ ترین اعلان سے افغانستان کے مقامی میڈیا نے ان شبہات کا اظہار شروع کر دیا کہ جنگ کے میدانوں میں افغان حکومت کی حالیہ ناکامیوں کی وجہ یہ ہے کہ صدر اشرف غنی کی انتظامیہ خاموشی سے اس منصوبے کی حمایت کر رہی ہے، جس کے بعد اس پر ایک مباحثہ شروع ہو گیا۔

لیکن اب افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر حامد اللہ محب نے جمعرات کو یہ بیان جاری کیا کہ کسی بھی صورت حال میں افغان حکومت اور عوام دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کاروباری فائدے کے لیے پرائیویٹ نہیں ہونے دیں گے۔

اس سے قبل حال ہی میں صدر اشرف غنی نے اپنی ایک ٹیلی وژن تقریر میں ایرک پرنس کی تجویز کا بالواسطہ ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ غیرملکی کرائے کے فوجیوں کو افغانستان میں کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG