رسائی کے لنکس

افغان فوجی اڈے پر حملے میں  '250 سے زائد فوجی ہلاک ہوئے': رپورٹ


افغانستان کے سب سے بڑے ٹی وی اسٹیشن نے اپنی ایک رپورٹ میں گزشتہ جمعہ کو شمالی صوبے بلخ میں ایک فوجی کیمپ پر ہونے والے مہلک ترین حملے میں 250 افراد کے ہلاک ہونے کا بتاتے ہوئے حکام پر "سچ کو چھپانے کا الزام"عائد کیا ہے۔

صوبائی دارالحکومت مزار شریف میں افغان نیشنل آرمی کی 209ویں کور پر ہونے والے حملے کے بعد بھی اس حملے میں ہلاک ہونے والے کی صحیح تعداد نا بتانے پر حکومت پر تقید ہو رہی ہے۔

افغان پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینٹ کے ڈپٹی چئیرمین نے اتوار کو قانون سازوں کو آگاہ کیا کہ سکیورٹی عہدیداروں نے انہیں بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 131 ہے جبکہ کہ صوبائی حکام نے شروع ہی سے یہ تعداد 131 بتائی ۔

طلوع نیوز نے منگل کو "باوثوق" ذرائع کے حوالےسے بتایا ہے کہ " مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی رپورٹ کے مطابق 10 صوبوں سے تعلق رکھنے والے 256 فوجیوں کی شناخت کی تصدیق ہو گئی ہے۔"

ٹی وی اسٹیشن نے ان صوبوں کے نام بھی بتائے ہیں جہاں ہلاک ہونے والے افراد کی میتوں کو تدفین کے لیے بھیجا گیا ہے۔

حکومتی عہدیداروں کا نجی طور پر اصرار ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد بتانے سے طالبان باغیوں کے خلاف لڑنے والی افغان فوج کے حوصلے متاثر ہو سکتے ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت ہلاکتوں کی تعداد کو چھپا کر ہلاک ہونے والے فوجیوں کی عزت افزائی نہیں کر رہی ہے۔

عہدیداروں اور باغیوں کا کہنا ہے کہ فوجی یونیفارم پہنے ہوئے پوری طرح سے مسلح حملہ آوروں، جن کے ساتھ مبینہ طور پر ایک زخمی فوجی بھی تھا، نے فوجی اڈے پر دھاوا بول کر قتل و غارت کی۔

اس حملے میں فوجی اڈے کے بہت اندر واقع خاص طور ایک ڈائننگ ہال اور مسجد کو نشانہ بنایا گیا جہاں سینکڑوں کی تعداد میں افغان فوجی جمعہ کی نماز ادا کر رہے تھے۔

عینی شاہدین اور سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ طالبان حملہ آور فوجی اڈے پر دو فوجی گاڑیوں میں پہنچے جن کے اوپر مشین گنیں ںصب تھیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ محاذ جنگ میں شدید زخمی ہونے والے ایک زخمی فوجی کو واپس لا رہے ہیں۔ بعض حملوں آور اپنے جسم سے بندھے بارودی مواد کے پھٹنے سے ہلاک ہو گئے جبکہ دیگر کو افغان فوج کے کمانڈوز نے کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں ہلاک کیا جس کے بعد یہ محاصرہ ختم ہو گیا۔

دیدہ دلیری کے ساتھ ہونے والے اس حملے کے بعد افغان سکیورٹی اداروں کی ملک کو مستحکم کرنے کی صلاحیت پر ایک نئے سرے سے تنقید شروع ہو گئی ہے۔اس حملے کے بعد افغان وزیر دفاع اور فوج کے سربراہ نے پیر کو اپنے عہدے چھوڑے دیے تھے۔ صدر اشرف غنی نے اس حملے کے بعد شاہین کور کے کور کمانڈروں اور دیگر کئی کور کمانڈروں کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا۔

اس معاملے کی چھان بین کے لیے اعلیٰ سطح پرتحقیقات ہو رہی ہیں کہ حملہ آور کس طرح مزار شریف میں واقع انتہائی مضبوط حصار والے فوجی اڈے میں داخل ہوگئے اور کیا انہیں "اندرونی طور پر بھی مدد"حاصل تھی۔

عہدیداروں کے مطابق مشتبہ طو رپر چار افغان فوجیوں نے حملوں آوروں کی مدد کی تاہم وہ مفرور ہیں۔

افغانستان میں مقامی سکیورٹی فورسز کی ترتیب اور مشاور کے لیے تعینات امریکی فوجی بھی صوبائی فوجی ہیڈکواٹرز میں ایک دوسری جگہ پر موجود تھے۔

طالبان نے جمعہ کو ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پانچ سو فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ حملہ افغانستان میں "بہار کے موسم میں ایسے مزید حملوں" کا پیش خیمہ ہے۔

امریکہ کے وزیر دفاع جم میٹس نے پیر کو کابل کے ایک روزہ دورے کے دورران متنبہ کیا کہ "2017 ء بہادر افغان فورسز اور بین الاقوامی دستوں کے لیے ایک اور مشکل سال ہو سکتا ہے۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG