رسائی کے لنکس

حکام کے مطابق یہ افراد افغانستان کے ایک معروف ٹیلی ویژن چینل ’طلوع‘ سے وابستہ صحافیوں پر خودکش حملے میں ملوث تھے۔

افغانستان میں حکام کے مطابق حقانی نیٹ ورک کے آٹھ جنگجوؤں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق یہ افراد افغانستان کے ایک معروف ٹیلی ویژن چینل ’طلوع‘ سے وابستہ صحافیوں پر خودکش حملے میں ملوث تھے۔

حقانی نیٹ ورک کے بارے میں کہا جاتا رہا ہے کہ وہ افغانستان میں امریکی افواج کے علاوہ افغان فورسز پر مہلک حملوں میں ملوث ہے۔

افغانستان کے انٹیلی جنس ادارے ’نیشنل ڈائریکٹوریٹ فار سکیورٹی‘ یعنی این ڈی ایس نے ایک بیان میں کہا کہ جن افراد کو گرفتار کیا گیا وہ کابل میں سات صحافیوں کے قتل میں ملوث تھے۔

صحافی کئی روز تک کام کرنے کے بعد اپنے ادارے کی ایک چھوٹی بس میں کابل واپس آ رہے تھے کہ بدھ کی شام انتہائی مصروف اوقات میں خودکش بمبار نے بارود سے بڑی گاڑی صحافیوں کی بس سے ٹکرا دی۔

’این ڈی ایس‘ کے مطابق یہ گرفتاریاں کابل کے جنوب مشرق میں واقع ایک ضلع میں کی گئیں، تاہم اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کا ہدف ’طلوع‘ ٹیلی ویژن کا عملہ ہی تھا کیوں کہ طالبان کے بقول یہ ٹی وی چینل امریکی فوج اور اُس کے اتحادیوں کا ’پروپیگنڈہ‘ نشر کرتا ہے۔

گزشتہ سال افغانستان کے شمالی شہر قندوز پر طالبان کے حملے کے بعد ’طلوع‘ ٹی وی کی طرف سے لوگوں کے مبینہ قتل اور اغوا کے بارے میں خبریں نشر کی گئیں، جس کے بعد طالبان کی طرف سے کھلے عام اس ٹیلی ویژن چینل کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی تھی۔

’طلوع‘ افغانستان کا پہلی نجی ٹیلی ویژن چینل ہے جس نے 24 گھنٹے کی نشریات کا آغاز کیا تھا۔ جلد اور قابل بھروسہ خبریں نشر کرنے کی وجہ سے اس چینل کو افغان عوام میں خاصی مقبولیت حاصل ہے۔

واضح رہے کہ طالبان کے دور اقتدار میں ٹیلی ویژن چینلز پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

حقانی نیٹ ورک افغان طالبان ہی کا حصہ ہے، تاہم امریکی عہدیداروں کا ماننا ہے کہ وہ اپنے طور پر کارروائیاں کرتا ہے۔

حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی کو گزشتہ سال افغان طالبان کا نائب سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

’طلوع‘ ٹی وی پر حملے کی نا صرف افغان حکومت اور مقامی تنظیموں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی مذمت کرتے ہوئے، اسے آزادی اظہار پر حملہ قرار دیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG