رسائی کے لنکس

logo-print

کابل: برطانوی سفارت خانے کی گاڑی پر خودکش حملہ، پانچ ہلاک


ہلاک ہونے والوں میں ایک برطانوی شہری بھی شامل ہے جب کہ خودکش دھماکے میں 33 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں سے اکثریت راہگیروں کی تھی۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں جمعرات کو برطانوی سفارت خانے کی ایک گاڑی پر خود کش بم حملے میں ایک برطانوی شہری سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔

خودکش دھماکے میں 33 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں سے اکثریت راہگیروں کی تھی۔ زخمیوں میں پانچ بچے اور دو خواتین بھی شامل ہیں۔

حکام کے مطابق خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی کابل کے مشرقی علاقے میں برطانوی سفارت خانے کی گاڑی سے ٹکرائی۔

سفارت خانے کے مطابق گاڑی میں سوار افراد زخمی بھی ہوئے لیکن اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ سفارت خانے کے مطابق اس دھماکے سے متعلق افغان حکام کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری افغان حکومت کے خلاف برسر پیکار طالبان عسکریت پسندوں نے قبول کی ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ خود کش حملہ آور کا نشانہ بقول ان کے ملک میں موجود غیر ملکی طاقتیں تھیں اور (اس حملے میں ) کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

رواں ہفتے کے اوائل میں بھی افغانستان میں ایک بم دھماکے میں دو غیر ملکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

افغانستان میں طالبان کے حملوں میں حالیہ ہفتوں میں ایک بار پھر تیزی آئی ہے۔

گزشتہ اتوار کو افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں والی بال کے میچ کے دوران خودکش دھماکے میں 50 سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

پاکستان کی طرف سے اس حملے کی شدید مذمت کی گئی۔

افغانستان میں شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ایسے وقت ہوا ہے جب وہاں سے رواں سال کے اواخر تک بیشتر غیر ملکی افواج کا انخلاء مکمل ہو جائے گا۔ جب کہ افغانستان کے امریکہ اور نیٹو سے ہونے والے دوطرفہ سیکورٹی معاہدوں کے تحت دسمبر 2014ء کے بعد بھی وہاں 9,800 امریکی فوجیوں سمیت لگ بھگ 12000 غیر ملکی فوجی موجود رہیں گے۔​

افغانستان میں پہلی مرتبہ پرامن انتقال اقتدار کے بعد اشرف غنی نے رواں سال ستمبر میں منصب صدارت سنبھالا تھا۔ افغان صدر اپنے حالیہ بیانات میں کہہ چکے ہیں وہ دہائیوں سے بدامنی کے شکار اپنے ملک میں دیرپا امن کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

XS
SM
MD
LG