رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان کا پاکستانی فوج پر پھر گولہ باری کا الزام


فائل فوٹو

افغانستان نے پاکستانی فوج پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ پھر افغانستان کے علاقوں میں گولہ باری کی ہے جو افغانستان کی خود مختاری کے خلاف اشتعال انگیز کارروائی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

افغانستان کی وزارتِ دفاع اور صوبۂ کنڑ کے حکام نے پیر کو دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی فوج نے افغانستان کے علاقوں میں مبینہ طور پر شیلنگ کی ہے۔

افغان حکام کے مطابق پاکستانی فوج نے مبینہ طور پر درجنوں راکٹ افغانستان کے علاقوں میں فائر کیے جس سے املاک کو نقصان پہنچا ہے۔

پاکستان نے ان الزامات پر کوئی ردعمل یا جواب نہیں دیا ہے۔ البتہ افغانستان کے کنڑ صوبے سے ملحقہ پاکستانی قبائلی ضلع باجوڑ میں مقیم قبائلیوں کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقے سے پاکستان اور افغانستان کی سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی غیر مصدقہ اطلاعات آرہی ہیں۔

افغانستان کی وزارتِ دفاع کے ایک عہدے دار فواد امان نے وائس آف امریکہ کے 'ریڈیو اشنا' سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی فوج فوری طور پر شیلنگ روکے۔ یہ اقدام افغانستان کی خود مختاری اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔

دوسری جانب کنڑ کی صوبائی کونسل کے رکن محمد صافی نے وائس آف امریکہ کی 'دیوا سروس' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی مبینہ شیلنگ کا معاملہ عالمی برادری کے سامنے بھی اٹھایا جائے گا اور کابل میں موجود پاکستان کے سفیر کو بھی احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا۔

واضح رہے کہ افغان حکام نے گزشتہ ہفتے بھی پاکستان کی افواج پر گولہ باری کا الزام لگایا تھا۔ افغان حکام کا کہنا تھا کہ کنڑ صوبے کی سویلین آبادی پر پاکستان کی فوج کی جانب سے کئی جانے والی گولہ باری میں نو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG