رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان: اجتماعی زیادتی کے پانچ مجرموں کو پھانسی


ملزمان نے خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے علاوہ کار سوار خاندان کا تمام سامان چھین لیا تھا اور انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا تھا۔

افغانستان میں چار خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے مشہور مقدمے میں سزا پانے والے پانچ افراد کو پھانسی دیدی گئی ہے۔

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے گزشتہ ماہ اپنی حکومت کے آخری روز ان افراد کو پھانسی دینے کے حکم نامے پر دستخط کیے تھے جس پر بدھ کو دارالحکومت کابل کی ایک جیل میں عمل درآمد کردیا گیا۔

پھانسی پانے والوں پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے تین دیگر ساتھیوں سمیت دارالحکومت کابل سے باہر ایک شاہراہ پر کار میں سفر کرنےو الے ایک خاندان کو روک کر کار سوار چار خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

ملزمان واردات کے وقت پولیس کی وردیوں میں ملبوس تھے جب کہ ان کے ہاتھوں جنسی استحصال کا شکار ہونے والی ایک خاتون واقعے کے وقت حاملہ تھی۔

ملزمان نے خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے علاوہ کار سوار خاندان کا تمام سامان چھین لیا تھا اور انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا تھا۔

افغانستان جیسے روایت پسند معاشرے میں اس طرز کے مجرمانہ فعل کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا تھا اور واقعے کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے مظاہرے کیے گئے تھے۔

افغان پولیس نے واقعے میں ملوث سات ملزمان کو گرفتار کرکے گزشتہ ماہ ایک عدالت میں پیش کیا تھا جس نے صرف دو گھنٹے کی سماعت کے بعد تمام ملزمان کو موت کی سزا سنادی تھی۔

بعد ازاں ملزمان کی اپیل کی سماعت کرنے والی ایک اعلیٰ عدالت نے دو ملزمان کی سزائے موت کو قید سے بدل دیا تھا جب کہ دیگر کی سزائیں برقرار رکھی تھیں۔

مقدمے میں نامزد تین دیگر ملزمان تاحال فرار ہیں۔

اتنے اہم مقدمے کی اتنی تیزی سے سماعت اور موت جیسی سخت ترین سزا سنائے جانے پر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے مقدمے کی شفافیت پر تحفظات ظاہر کیے تھے۔

ان تنظیموں میں سے بعض نے نئے افغان صدر اشرف غنی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان افراد کی پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد روک دیں تاہم افغان صدر نے اس معاملے میں کوئی مداخلت نہیں کی۔

XS
SM
MD
LG