رسائی کے لنکس

افغانستان: مدرسے پر فضائی حملے میں گیارہ بچوں سمیت 12 افراد ہلاک


Afghan fighting
Afghan fighting

افغانستان کے شمال مشرقی علاقے میں ایک مدرسے پر ہونے والے فضائی حملے میں بارہ افراد ہلاک ہو گئے جن میں گیارہ بچے شامل تھے۔

بدھ کے روز ہونے والا یہ حملہ صوبہ تخار پر ہوا جہاں تین روز سے افغان سیکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے، جس میں دو درجن کے قریب افغان سیکیورٹی اہل کار ہلاک ہو چکے ہیں۔ فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ فضائی حملہ کس نے کیا تھا۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس حملے میں 14 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

امریکی مدد یافتہ افغان فورسز اور طالبان کے درمیان جاری مسلسل جنگ سے بین الافغان مذاکرات میں پیچیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ مذاکرات گزشتہ ماہ قطر میں شروع ہوئے تھے۔

امریکہ ایک ایسے معاہدے کا خواہشمند ہے جس سے افغانستان میں 19 سال سے جاری جنگ کا خاتمہ ہوسکے۔

دوحہ میں امن مذاکرات میں حصہ لینے والا افغان طالبان کا وفد، فائل فوٹو
دوحہ میں امن مذاکرات میں حصہ لینے والا افغان طالبان کا وفد، فائل فوٹو

ریڈیو فری افغانستان کے مطابق، افغان عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس سے قبل صوبہ تخار کے ڈپٹی پولیس چیف راز محمد دور اندیش اور افغان فورس کےتقریباً 50 اراکین ، طالبان کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔

مقامی عہدیداروں کے مطابق طالبان نے باہارک کے گاؤں مسجد سفید میں سیکیورٹی فورسز پر حملہ کیا۔ طالبان کو بھی ان جھڑپوں میں بھاری جانی نقصا اٹھانا پڑا ہے، لیکن ہلاکتوں کے مصدقہ اعداد و شمار معلوم نہیں ہو سکے۔

قطر میں جاری مذاکرات کے باوجود طالبان نے جنگ بندی کو مسترد کر دیا ہے۔

پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کے مطابق، صرف اس ماہ کے دوران، طالبان حملوں کی وجہ سے صوبہ ہلمند سے تقریباً 40 ہزار عام شہری گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG