رسائی کے لنکس

logo-print

مزار شریف میں جرمن قونصل خانے پر حملہ، تمام اہل کار محفوظ


جرمنی نے کہا ہے کہ مزار شریف میں اس کے قونصلیٹ پر طالبان کی جانب سے کیے جانے والے خود کش حملے میں اس کے تمام اہل کار محفوظ رہے ۔

اسپتال کے ذرائع نے مزار شریف کے شہر میں بم دھماکے اور بندوقوں کے حملوں میں کم از کم چھ عام شہری ہلاک ہوئے جب کہ زخمی ہونے والوں کی تعداد 130 کے لگ بھگ بتائی ہے۔

جرمنی کے وزیر خارجہ فرینک والٹر نے حملے کا نشانہ بننے والوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ ان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ قونصلیٹ میں کام کرنے والے تمام جرمن اور أفغان باشندے محفوظ ہیں۔

طالبان کے بھاری طور پر مسلح ایک گروپ نے جمعرات کو نصف شب سے کچھ ہی دیر پہلے یہ حملہ کیا اور جرمن قونصلیٹ کے پاس یہ دھماکہ کیا۔

اس سے پہلے بتایا گیا تھا کہ افغانستان کے شہر مزار شریف میں جرمن قونصل خانے پر خودکش کار بم حملے میں ہلاکتوں کی تعداد چار ہو گئی ہے، جب کہ حملے میں 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

جمعہ کی صبح تک ہلاکتوں اور زخمیوں سے متعلق اعداد و شمار غیر سرکاری طور پر ہی دستیاب ہو سکے ہیں، جو مزار شریف کے ایک اسپتال کے ڈاکٹر نے بتائے۔

شمالی افغانستان کے شہر مزار شریف میں طالبان کے حملے سے قونصلیٹ کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور مسلح جھڑپ کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔

جرمن قونصلیٹ کے باہر پہلا دھماکا ایک ٹرک میں نصب بارودی مواد سے کیا گیا، جس سے عمارت ہل کر رہ گئی اور اس کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

طالبان کے ترجمان کے مطابق جمعرات کی شب لگ بھگ 11 بجے ٹرک بم دھماکے کے بعد مسلح طالبان خودکش بمباروں نے حملہ کیا۔

افغان انتظامیہ نے جرمن قونصلیٹ کے اردگرد کا علاقہ سیل کر دیا اور جائے وقوع پر موجود صحافیوں کے مطابق نیٹو کے ہیلی کاپٹر فضا سے صورت حال کا جائزہ لیتے رہے۔

طالبان کا کہنا ہے کہ یہ حملہ رواں ماہ قندوز میں فضائی کارروائی کا بدلہ لینے کے لیے کیا گیا۔

عسکریت پسندوں کا دعویٰ ہے کہ امریکی جنگی جہازوں سے کی گئی کارروائی میں 32 شہری مارے گئے جن میں بچے بھی شامل تھے۔

امریکی عہدیدار فضائی کارروائی کے محرکات کا جائزہ لے رہے ہیں لیکن اُن کا کہنا ہے کہ یہ ’’بہت حد تک ممکن‘‘ ہے کہ فضائی کارروائی امریکی جنگی طیاروں سے کی گئی ہو۔

قندوز میں یہ فضائی کارروائی طالبان کے حملے میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد کی گئی تھی۔

جرمن حکومت نے اس حملے کے بعد برلن میں علی الصبح ایک ہنگامی اجلاس میں قونصلیٹ پر حملے سے متعلق معلومات اکٹھی کیں۔

افغانستان میں تعینات نیٹو افواج میں جرمن فوجیوں کی تعداد 983 ہے جن میں سے اکثریت صوبہ بلخ میں تعینات ہے۔ واضح رہے کہ مزار شریف صوبہ بلخ میں واقع ہے۔

XS
SM
MD
LG