رسائی کے لنکس

کابل میں ایمبولنس بم دھماکے میں 95 افراد ہلاک، 160 سے زائد زخمی


کابل بم دھماکے کے زخمیوں کو اسپتال پہنچایا جا رہا ہے۔

یہ حملہ کابل میں انٹر کانٹیننٹل ہوٹل پر ہونے والے حملے کے چند روز بعد ہوا ہے جس میں 14 غیر ملکیوں سمیت کم ازکم 25 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بارودسے بھری ہوئی ایک ایمبولنس ہفتے کے روز کابل کے ایک پرہجوم علاقے میں دھماکے سے پھٹ گئی جس کے نتیجے میں کم ازکم 95 افراد ہلاک اور 163 کے لگ بھگ زخمی ہو گئے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' نے بتایا ہے کہ ا س کے نمائندے نے شہر کے جمہوریت اسپتال میں بڑی تعداد میں لائی گئی نعشیں اور زخمی دیکھے ہیں جن میں مرد ، عورتیں اور بچے سب شامل تھے اور زخموں سے چور بہت سے افراد اسپتال کے فرش پر امداد کے منتظر تھے۔

وزارت صحت کے ایک ترجمان وحید مجروع نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد 95 تک پہنچ چکی ہے جب کہ 163 زخمیوں کو اسپتال لایا گیا ہے۔

دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ دو کلو میٹر کے علاقے میں عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے، اور دھماکے کے مقام کے قریب واقع عمارتوں میں دراڑیں پڑ گئیں۔

اس سے قبل افغانستان میں عہدیداروں نے بتایا تھا کہ بم دھماکے میں کم از کم 40 افراد ہلاک اور 140 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

کابل پولیس کے نائب سربراہ حق نواز حق یار کے مطابق یہ دھماکا ہفتہ کی دوپہر صدارت اسکوائر میں اس وقت ہوا جب وہاں بڑی تعداد میں لو گ موجود تھے۔ جس جگہ دھماکا ہوا اس کے قریب ہی سرکاری دفاتر اور غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں۔

افغان وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نصرت رحیمی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ حملہ آور نے بارود سے بھری ایک ایمبولینس کے ذریعے یہ دھماکا کیا۔

دھماکے میں زخمی ہونے والے شخص کو طبی امداد کے لیے منتقل کیا جا رہا ہے
دھماکے میں زخمی ہونے والے شخص کو طبی امداد کے لیے منتقل کیا جا رہا ہے

طالبان نے فوری طور پر اس حملے کی ذمہ داری قبول کی اور ان کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ حملے کا ہدف افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کا ایک ہجوم تھا۔

پاکستان نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ دہشت گردی مسئلے کا حل نہیں ہے۔

افغانستان اپنے ہاں ہونے والی دہشت گردی کا الزام پاکستانی سرزمین پر موجود دہشت گردوں پر عائد کرتے ہوئے کہتا آیا ہے کہ پاکستان ان دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی نہیں کرتا۔ لیکن اسلام آباد ان دعوؤں کو مسترد کرتا ہے۔

یہ حملہ کابل میں انٹر کانٹیننٹل ہوٹل پر ہونے والے حملے کے چند روز بعد ہوا ہے جس میں 14 غیر ملکیوں سمیت کم ازکم 25 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

دوسری طرف ہفتہ کو ہی جنوبی صوبے ہلمند میں ایک خود کش کار بم دھماکے میں سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا اور عہدیداروں کے مطابق اس حملے میں چھ افراد زخمی ہوئے۔

صوبائی ترجمان عمر زواک نے کہا کہ خود کش حملہ آور نے ناد علی ضلع میں واقع ایک سیکورٹی چوکی میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

سیکورٹی فورسز نے حملہ آور کو دیکھنے کے بعد اس پر فائرنگ کی تاہم پھر بھی وہ دھماکا کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ بتایا گیا ہے کہ اس حملے کی ذمہ داری افغان طالبان نے قبول کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG