رسائی کے لنکس

کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے باہر مظاہرہ


فائل فوٹو

اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے جو پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اُن پر پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس ادارے کے خلاف نعرے درج تھے۔

پاکستانی اور افغان میڈیا کے مطابق کابل میں پاکستان کے سفارت خانے کے باہر جمعہ کو بڑا مظاہرہ کیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے جو پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اُن پر پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس ادارے کے خلاف نعرے درج تھے۔

افغان ٹیلی ویژن ’طلوع‘ کے مطابق ’افغان گرین ٹرینڈ‘ نامی تنظیم نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے مبینہ کردار پر کابل میں ایک پُرامن مظاہرہ کیا۔

مظاہرین کا الزام تھا کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی ’آئی ایس آئی‘ افغانستان میں حالیہ حملوں میں ملوث عسکریت پسندوں کی مدد کرتی رہی ہے۔

مظاہرے میں شریک افراد کا الزام تھا کہ کابل پاکستانی سفارت خانہ جاسوسی کا گڑھ ہے۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے ہی افغانستان کے دارالحکومت کابل اور صوبہ قندھار میں دو دہشت گرد حملوں میں کم از کم 50 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

قندھار میں ہونے والے بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے 11 افراد میں سے پانچ متحدہ عرب امارات کے سفارت کار تھے۔

وائس آف امریکہ کی پشتو سروس دیوا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے باہر مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان مخالف نعرے لگائے گئے اور افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے رابطے منقطع کر دے۔

پاکستان افغانستان کے معاملات میں مداخلت یا دہشت گردوں کی حمایت کرنے کے الزامات کو رد کرتا آیا ہے۔

رواں ماہ کے اوائل میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغان قیادت سے رابطہ کر کے علاقائی امن کے لیے کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں امن و مصالحت کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنے کو تیار ہے اور پاکستانی حکام کے مطابق الزام تراشی کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG