رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کے ساتھ سکیورٹی معاہدے پر کرزئی کی مشروط آمادگی


افغان صدر کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ کو ان کی شرائط منظور نہیں تو اس کے فوجی کسی بھی وقت افغانستان سے جا سکتے ہیں اور ان کا ملک غیر ملکیوں کے بغیر بھی چلتا رہے گا۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ مجوزہ سکیورٹی معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے تاوقتیکہ واشنگٹن اور پاکستان طالبان سے امن مذاکراتی عمل بحال نہیں کرتے۔

ہفتہ کو کابل میں صحافیوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کی شرائط قبول کرنے سے قبل وہ چاہتے ہیں کہ واشنگٹن امن بات چیت کی بحالی میں مدد کرے۔

’’اگر امریکہ دوطرفہ سکیورٹی معاہدے پر ہماری شرائط ماننے کو تیار نہیں تو وہ (امریکی افواج) کسی بھی وقت یہاں سے جاسکتے ہیں اور افغانستان غیر ملکیوں کے بغیر بھی چلتا رہے گا۔‘‘

رواں سال کے اواخر تک افغانستان سے تمام غیر ملکی افواج ایک منصوبے کے تحت وطن واپس چلی جائیں گی لیکن امریکہ نے ایک دو طرفہ سکیورٹی معاہدہ تجویز کر رکھا ہے جس کے تحت بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد بھی محدود تعداد میں امریکی فوجی افغانستان میں رہ سکیں گے۔

اس معاہدے کو افغانستان کے لویا جرگہ نے گزشتہ سال منظور کرتے ہوئے صدر کرزئی پر دستخط کرنے کو کہا تھا لیکن مسٹر کرزئی اس میں پس و پیش سے کام لیتے رہے ہیں۔

گزشتہ سال غیر ملکی افواج نے افغانستان میں سلامتی کی ذمہ داریاں مقامی سکیورٹی فورسز کے سپرد کر دی تھیں لیکن مبصرین افغان سکیورٹی فورسز کی استعداد کار کو سامنے رکھتے ہوئے یہ خدشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد جنگ سے تباہ حال اس ملک میں سلامتی کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

طالبان بھی ملک کے مختلف حصوں میں اپنے اثرو رسوخ کا دعویٰ کرتے ہوئے یہ کہہ چکے ہیں غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد وہ ملک پر پھر قابض ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

2013ء میں افغان طالبان سے مذاکرات کے لیے قطر میں ان کا ایک دفتر قائم کرکے بات چیت کا عمل شروع کیا جانا تھا لیکن افغان صدر کی طرف سے اس دفتر سے متعلق تحفظات کے بعد یہ عمل آگے نہیں بڑھ سکا تھا۔

پاکستان بار ہا یہ کہہ چکا ہے کہ وہ افغانستان میں ہر اس مصالحتی عمل کی حامی ہے جو افغانوں کی قیادت میں افغانوں کے لیے ہو۔
XS
SM
MD
LG