رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان: ہزارہ شیعہ برادری کے 30 افراد اغوا


صوبہ زابل میں مسلح افراد نے بسوں کو روک کر مسافروں کے شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد ان میں سے ہزاری برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو الگ کیا اور اپنے ساتھ لے گئے۔

افغانستان کے جنوبی صوبہ زابل میں نامعلوم مسلح افراد نے دو مسافر بسوں کو روک کر 30 افراد کو اغواء کر لیا ہے، جن کا تعلق شیعہ ہزارہ برادری سے بتایا جاتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ بسیں پیر کو رات دیر گئے صوبہ زابل سے دارالحکومت کابل جا رہی تھیں۔

بس کمپنی کے ایک منیجر نے بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے بسوں کو روک کر مسافروں کے شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد ان میں سے ہزارہ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو الگ کیا اور اُنھیں اپنے ساتھ لے گئے۔

تاہم مسلح افراد خواتین اور بچوں کو وہیں چھوڑ گئے۔

خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کے مطابق بس کمپنی کے ایک منیجر کا کہنا تھا کہ بسوں کے ڈرائیوروں نے فوجی وردیوں میں ملبوس مسلح افراد کے روکنے پر گاڑیوں کو روکا۔

زابل صوبے میں جہاں یہ واقعہ پیش آیا، پولیس کے نائب سربراہ غلام جیلانی سخی کا کہنا ہے کہ اغوا کیے گئے مسافروں کو کہاں لے جایا گیا اس بارے میں فوری طور پر کسی طرح کی اطلاعات نہیں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ "ہم یہ تفتیش کر رہے ہیں کہ ان لوگوں کو کہاں لے جایا گیا ہے"۔

ہزارہ شیعہ برادری کو 1990ء کی دہائی میں طالبان کے دور حکومت میں بھی ناروا سلوک کا سامنا رہا۔

تاہم اس واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے۔

گزشتہ سال جولائی میں اسی طرح کے ایک واقعہ میں طالبان عسکریت پسندوں نے افغانستان وسطی صوبے گور میں دو بسوں کو روک کر 14 مسافروں کو قتل کر دیا تھا جن کا تعلق ہزارہ برادری سے تھا۔

افغانستان کے وزار ت داخلہ کے ایک عہدیدار کا کہنا ہےکہ اغوا کیے گئے افراد کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق افغانستان کی آبادی کا نو فیصد شعیہ ہزارہ برادری پر مشتمل ہے اور انہیں شدت پسندوں کی طرف سے ماضی میں بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

پاکستان کے جنوبی مغربی صوبہ بلوچستان میں بھی شعیہ ہزارہ برادری کے افراد پر ہلاکت خیز حملے کیے جا چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG