رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان: مٹی تلے دبے افراد کی تلاش کا کام روک دیا گیا


امدادی کاموں میں مصروف افراد نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ صوبہ بدخشاں کے اس پہاڑی علاقے میں مٹی کے مزید تودے گرنے کا خطرہ ہے۔

افغانستان کے شمال میں عہدیداروں نے مٹی کے تودوں تلے دبے افراد کی تلاش کا کام روک دیا ہے کیوں کہ اب ٹنوں مٹی اور پتھروں کے ملبے تلے دبے افراد کے زندہ بچ جانے کی اُمیدیں ختم ہو گئی ہیں۔

امدادی کاموں میں مصروف افراد نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ صوبہ بدخشاں کے اس پہاڑی علاقے میں مٹی کے مزید تودے گرنے کا خطرہ ہے۔ تاجکستان، چین اور پاکستان کی سرحد پر واقعہ اس علاقے میں حالیہ دنوں میں شدید بارشیں ہوئی ہیں۔

ہفتہ کے روز صرف دو لاشیں نکالی جا سکیں تھیں اور اتوار کو حکام نے کہا کہ اُن کی توجہ اب بے گھر ہونے والے چار ہزار افراد کو خوراک، پناہ اور صحت کی سہولتوں کی فراہمی پر ہے۔

ہلاک اور لاپتا ہونے والے افراد کے بارے میں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ان کی تعداد چند سو سے لے کر 2700 افراد تک ہے۔ اس بارے میں شاید حتمی اعداد و شمار کبھی سامنے نا آ سکیں کیوں کہ جس مقام پر مٹی کے تودے گرے اس 'اجتماعی قبر' قرار دیا جا رہا ہے۔

صوبہ بدخشاں کے ضلع ارگو میں گزشتہ جمعہ کو مٹی کے تودے گرنے سے آب باریک نامی پورا گاؤں ہی اس کی زد میں آگیا تھا۔

امریکہ صدر براک اوباما اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے جانی نقصان پر افسوس و تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے افغان حکومت و عوام کی مدد کا وعدہ کیا ہے۔
XS
SM
MD
LG