رسائی کے لنکس

logo-print

نفسیاتی مسائل سے دوچار افغانی کیسے اپنا 'درد دل' بیان کر رہے ہیں؟


جنگ کے باعث افغان شہریوں کے روزمرہ کے معمولات بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

افغانستان میں سالہا سال سے جاری بیرونی مداخلت اور خانہ جنگی سے تنگ آ کر کچھ شہریوں نے امن مذاکرات میں شامل فریقین کو خط لکھنے کی مہم شروع کر دی ہے جسے 'درد دل' کا نام دیا گیا ہے۔

افغانستان کے طول و عرض سے لکھے جانے والے ان خطوط میں مایوسی اور خوف کے ملے جلے جذبات کا اظہار کیا گیا ہے۔

ایک غیر سرکاری تنظیم ان خطوط کو مرتب کر رہی ہے جو امریکی حکام، طالبان اور افغان حکومت کے نمائندوں کو بھجوائے جا رہے ہیں۔

یہ خطوط ایسے وقت میں لکھے جا رہے ہیں جب امریکہ اور طالبان قطر کے دارلحکومت دوحہ میں افغانستان میں 18 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔ تاحال یہ کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

کابل سے ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "میں پریشانی کے باوجود پر امید ہوں کہ ہمارے ملک کے حالات ٹھیک ہوں گے، میں صورتحال تبدیل نہیں کر سکتا لیکن اپنے جذبات کا اظہار تو کر سکتا ہوں۔"

درد دل منصوبہ ایسے افغان شہریوں کو اپنے جذبات کا اظہار کا موقع دے رہا ہے جو حالات سے پریشان اور ملک کے مستقبل سے متعلق غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔

امن مذاکرات کے باوجود افغانستان میں پرتشدد کارروائیاں جاری ہیں، حال ہی میں کابل میں بم دھماکوں کے نتیجہ میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس منصوبے میں شامل عمید شریفی کا کہنا ہے کہ بہت سے افغان شہری اس صورتحال کے باعث ڈپریشن سمیت مختلف نفسیاتی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، اس منصوبے کا مقصد ایسے افغان شہریوں کو اپنے دل کا حال بیان کرنے کا موقع دینا ہے۔

عمید کے مطابق اس منصوبے کے تحت سرکاری دفاتر، کھانے پینے کے مراکز، دکانوں، چائے خانوں کے باہر ایک لیٹر بکس رکھا گیا ہے، جس کے ذریعے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے کہ وہ امن مذاکرات کے دوران اپنی رائے بھی دیں۔

عمید پر امید ہیں کہ اس مہم کے ذریعے وہ افغان شہری جو اس جنگ کے باعث مختلف ذہنی بیماریوں کا شکار ہوتے رہے ہیں وہ اپنی کہانی بیان کر سکتے ہیں۔

"ایسی کہانیاں بھی سامنے آ رہی ہیں جس میں افغان شہریوں کو اس جنگ کے دوران تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بھی برداشت کرنا پڑیں۔"

افغانستان 1979 سے ہی عدم استحکام کا شکار ہے، جب روس نے اس پر قبضہ کر لیا تھا۔ اسی کی دہائی میں روس کے خلاف مسلح جدوجہد شروع ہوئی جو آخر کار نوے کی دہائی میں سویت یونین کے حصے بخرے ہونے پر اختتام پذیر ہوئی۔

سرد جنگ کے خاتمے کے باوجود افغانستان کے اندر مختلف دھڑے آپس میں برسر پیکار رہے اور یوں ملک میں اس عرصے کے دوران امن قائم نہیں ہو سکا۔

نائن الیون حملوں کے بعد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر دیا جس کے بعد ایک بار پھر پر تشدد کارروائیوں میں اضافہ ہو گیا۔ طالبان کی حکومت تو ختم ہو گئی تاہم ابھی تک ملک میں امن قائم نہیں ہو سکا، بم دھماکے اور خود کش حملے ابھی بھی افغانستان کے مختلف علاقوں میں وقتاً فوقتاً ہوتے رہتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG