رسائی کے لنکس

logo-print

ملا رسول کی وائرل ویڈیوز


فائل فوٹو

افغانستان کا ایک خود ساختہ پیر، سوشل میڈیا پر اپنی جنسی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد فرار ہو گیا ہے۔

جعلی پیر جس کا نام ملا رسول بتایا جا رہا ہے، افغانستان کے شمالی صوبے فریاب کے ایک گاؤں میں لوگوں کی پریشانیاں اور بیماریاں دور کرنے کے لیے تعویذ دیتا تھا اور دم کرتا تھا۔

اس کی ویڈیوز منظر عام پر آنے سے انکشاف ہوا کہ وہ اپنے حجرے میں آنے والوں کو، خاص طور پر خواتین کو جنسی تعلق قائم کرنے پر مجبور کرتا تھا اور پھر ان کی خفیہ طریقے سے ویڈیو بنا لیتا تھا۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملا رسول جو علاقے میں لنڈی کے نام سے مشہور تھا، ان ویڈیوز سے خواتین کو بلیک میل کرتا تھا۔

حالیہ ہفتوں سے اس کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا یہ ویڈیوز کب بنائی گئیں تھیں اور کہاں بنائی گئیں تھیں۔ آیا ان کا تعلق ملا رسول کے اپنے گاؤں چنار سے ہے یا پھر کسی اور علاقے سے۔

ان میں سے کچھ ویڈیو فیس بک پر پوسٹ کی گئی ہیں جن میں اسے واضح طور پر عورتوں اور مردوں کے ساتھ جنسی عمل میں مصروف دیکھا جا سکتا ہے۔ کچھ ویڈیوز میں عورتوں کے چہرے دکھائی دے رہے ہیں جس سے ان کی سلامتی سے متعلق سوال کھڑے ہو گئے ہیں کیونکہ یہ ویڈیوز ہزاروں افراد کی نظروں سے گزر چکی ہیں۔

گورنر فریاب کے ترجمان جواد بیدار نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا ان ویڈیوز کے بعد عزت کے نام پر کئی قتل ہو سکتے ہیں۔

حال ہی میں علاقے میں ایک نامعلوم عورت کی نعش ملی ہے جس کے متعلق اندیشہ ہے کہ اسے عزت کے نام پر قتل کیا گیا تھا، لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا اس قتل کا تعلق وائرل ہونے والی ویڈیوز سے تھا یا نہیں۔

خواتین کی صوبائی وزارت کی سربراہ شریفہ اعظی کا کہنا ہے کہ ان خواتین کو دھو کہ دیا گیا۔ وہ بے گناہ ہیں ۔ وہ خراب عورتیں نہیں ہیں۔ مذہبی راہنما لوگوں کو بتائیں کہ انہیں کچھ نہ کہا جائے۔

صوبہ فریاب کی علما کونسل کے نائب صدر غلام نبی غفوری نے ملا رسول کو سنگسار کرنے کا فتویٰ جاری کر دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت وائرل ویڈیوز اور ملا رسول افغانستان بھر میں گفتگو کا ایک اہم موضوع بنا ہوا ہے۔

افغانستان ایک قدامت پسند معاشرے کا ملک ہے جہاں جنس کو ایک کلنک کے طور دیکھا جاتا ہے اور جہا ں آج بھی زیادہ تر خواتین دوسرے درجے کے شہری کے طور پر زندگی گزار رہی ہیں۔

افغانستان کے زیادہ تر دیہی علاقوں میں صحت کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں اور لوگ اپنے علاج معالجے کے لیے تعویذ دینے اور دم کرنے والوں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ یہ جعلی روحانی معالج، صرف بیماریوں کا علاج ہی نہیں کرتے بلکہ روز مرہ زندگی کے مسائل کے حل کے لیے بھی تعویذ دیتے ہیں، جن میں چوری شدہ مال کی بازیابی سے لے کر روٹھے ہوئے محبوب کی واپسی تک شامل ہوتی ہے۔

صوبہ فریاب کے گورنر نقیب اللہ فائق نے اعلان کیا ہے کہ جو کوئی بھی ملا رسول تک پہنچنے میں مدد کرے گا وہ اسے اپنی کار انعام میں دیں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ روئے زمین پر اس کے چھپنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ وہ آخرکار پکڑا جائے گا۔

ملا رسول کو تو شاید مقدمہ چلنے کے بعد سزا ملے گی لیکن ویڈیوز میں پہچانی جانے والی خواتین کو معاشرہ صفائی کا موقع دیے بغیر ہی سزا دے دے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG