رسائی کے لنکس

افغانستان کی نصف سے زیادہ آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے


کابل کی روزمرہ کی زندگی کا ایک منظر

افغانستان میں لوگوں کے رہنے سہنے کے حالات سے متعلق جائزے پر مبنی حال ہی جاری ہونے والی ایک رپورٹ ان سچائیوں کی ایک تلخ تصویر پیش کرتی ہے جن کا آج کے افغانستان کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی قومی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے جس 2011 اور 2012 کے بعد سے فلاح و بہبود کے کاموں میں شديد تنزلی کی نشاندہی ہوتی ہے۔

اے ایل سی ایس نامی یہ جائزہ رپورٹ سن 2014 میں بین الاقوامی فورسز کی جانب سے ملک کی سیکیورٹی کی ذمہ داریوں کی افغان نیشنل آرمی کو منتقلی کے بعد افغان عوام کی فلاح و بہبود کا پہلا تخمینہ پیش کرتی ہے۔

گزشتہ پانچ سال کے دوران افغانستان میں غربت میں ہونے والا نمایاں اضافہ غیر متوقع نہیں ہے۔

غربت میں نمایاں اضافہ معاشی ترقی کے جمود اور آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور سیکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے مشترکہ اثرات کا نتیجہ ہے

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عشروں سے جاری تنازعات اور عدم استحكام نے افغان معاشرے کے لیے پیچیدگیاں پیدا کر دی ہیں جس کی معیشت پہلے سے ہی زبوں حالی کا شکار ہے۔

افغانستان سے بین الاقوامی فوجی دستوں کی واپسی 2012 میں شروع ہوئی جس کی وجہ اس امداد میں بھی کمی آئی جس کا تعلق سیکیورٹی اور شہری آبادی سے تھا۔

رپورٹ کے مطابق غیر ملکی فوجی انخلا سے معاشی سرگرمیوں کی سطح میں نمایاں کمی واقع ہوئی اور مقامی سطح پر چیزوں کی مانگ بھی کم ہوئی۔

سن 2012 کے بعد سے سیکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورت حال نے صارف اور سرمایہ کار دونوں کے اعتماد میں متزلزل کیا جس سے معاشی دھچکہ مزید نمایاں ہوا۔

رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقتصادی ترقی کی شرح جو 2011 اور 2012 میں 9 اعشاریہ 4 فی صد تھی 2013 اور 2016 کے عرصے میں 2 اعشاریہ 1 فی صد تک گر گئی۔

حالیہ برسوں میں افغانستان کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا جس سے غریبی کی شرح کو مزید بڑھ گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG