رسائی کے لنکس

logo-print

افغان انتخاب: ووٹوں کی گنتی شفاف ہونی چاہیے، عبداللہ


افغانستان کے 'آزاد الیکشن کمیشن' کا کہنا ہے کہ اب تک 45 فی صد ووٹوں کا کمپیوٹر ڈیٹا میں اندراج کیا جاچکا ہے

افغانستان کے صدارتی انتخابات کے اہم امیدوار اور سابق وزیرِ خارجہ عبداللہ عبداللہ نے کہا ہے کہ انتخاب کے پہلے مرحلے میں ڈالے جانے والے ووٹوں کی گنتی شفاف طریقے سے انجام دی جانی چاہیے۔

جمعرات کو 'وائس آف امریکہ' کی 'افغان سروس' کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ انتخابات میں شکست اور فتح سے کہیں زیادہ اہم یہ بات ہے کہ پورا انتخابی عمل شفاف اور قانون کے مطابق انجام پائے۔

افغانستان کے 'آزاد الیکشن کمیشن' کا کہنا ہے کہ اب تک 45 فی صد ووٹوں کا کمپیوٹر ڈیٹا میں اندراج کیا جاچکا ہے اور ملک کے 34 صوبوں میں سے کم از کم 20 صوبوں میں ڈالے جانے والے ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد ہی جزوی نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔

امکان ہے کہ نتائج کا حتمی سرکاری اعلان مئی کے آغاز تک ہی ممکن ہوسکے گا۔

اطلاعات ہیں کہ اب تک کے نتائج کے مطابق عبداللہ عبداللہ اور 'ورلڈ بینک' کےسا بق عہدیدار اشرف غنی دیگر تمام امیدواران سے آگے ہیں۔

لیکن یہ امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ انتخابات کے دوسرے مرحلے کی ضرورت پیش آسکتی ہے جس میں دونوں سرِ فہرست امیدواروں کے درمیان دو بدو مقابلہ ہوگا۔

تاہم 'وی او اے' کے ساتھ گفتگو میں عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ اس بات کا اچھا خاصا امکان موجود ہے کہ صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے کی ضرورت نہ پیش آئے اور پہلے مرحلے میں ہی کسی امیدوار کو درکار اکثریت (50 فی صد + ایک ووٹ) حاصل ہوجائے۔

ان کا کہنا تھا کہ انتخابی عمل کی آزادا نہ تکمیل اور عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آنے والی آئندہ حکومت کا قیام افغانستان کے قومی مفاد میں ہے جسے ہر ممکن طور پر یقینی بنایا جانا چاہیے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے صدارتی انتخابات میں طالبان کی دھمکیوں کے باوجود افغان عوام کی بڑی تعداد نے ووٹ ڈالے تھے۔

انتخابات میں کامیاب ہونے والا امیدوار صدر حامد کرزئی کی جگہ سنبھالے گا جو افغانستان پر 2001ء میں امریکی حملے کے بعد سے ملک کے صدر چلے آرہے ہیں۔
XS
SM
MD
LG