رسائی کے لنکس

logo-print

روس نے مجوزہ افغان امن مذاكرات ملتوی کر دیے


عمارتوں کے مرکز میں روس کی وزارت خارجہ کی عمارت دیکھی جا سکتی ہے۔ فائل فوٹو

یہ کثیر ملکی کانفرنس 4 ستمبر سے شروع ہو رہی تھی جس میں طالبان نے اپنی شرکت پر رضامندی ظاہر کر دی تھی.

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پیر کے روز کہا ہے کہ روس طالبان کے ساتھ امن مذاكرات ملتوی کرنے پر تیار ہو گیا ہے۔

یہ کثیر ملکی کانفرنس 4 ستمبر سے شروع ہو رہی تھی جس میں طالبان نے اپنی شرکت پر رضامندی ظاہر کر دی تھی جب کہ افغانستان نے اپنی معذوری کا اظہار کیا تھا۔ امریکہ نے بھی اس بنا پر شرکت سے معذرت کر دی تھی کہ وہ افغانستان کی حکومت کی قیادت میں امن مذاكرات کے اپنے موقف پر قائم ہیں۔

روس نے 12 ملکوں اور طالبان کو کانفرنس میں شرکت کے دعوت نامے بھیجے تھے۔

صدر اشرف غنی نے روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف سے بات کی تاکہ اس چیز کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ طالبان سے مذاكرات افغان حکومت کی موجودگی میں ہی ہوں۔

خبررساں ادارے روئیٹرز کے مطابق روسی وزیر خارجہ نے افغان صدر کو یقین دلایا کہ وہ کانفرنس کی تاریخوں کو تبدیل کر دیں تاکہ افغانستان کی شرکت کو قابل عمل بنایا جا سکے۔

صدر اشرف غنی نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ زیادہ وفود کی شرکت اور روس اور افغانستان حکومت کی مشترکہ میزبانی کے پیش نظر ماسکو کانفرنس کو ملتوی کرنے کا فیصلہ ہو گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG