رسائی کے لنکس

logo-print

جلال آباد حملے کے بعد افغان سکھ خوف کا شکار


جلال آباد حملے میں مرنے والے ایک شخص کی میت آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے لے جائی جارہی ہے۔

ننگرہار کے دارالحکومت جلال آباد میں یہ خود کش حملہ اس وقت کیا گیا تھا جب شہر کی اقلیتی برادریوں کے نمائندے ننگرہار کے دورے پر آنے والے صدر اشرف غنی سے ملاقات کے لیے جارہے تھے۔

افغانستان کے شہر جلال آباد میں اتوار کو ہونے والے خود کش حملے اور اس میں سکھ برادری کے 13 افراد کی ہلاکت نے افغانستان میں آباد اقلیتوں کے محفوظ مستقبل پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑے کردیے ہیں۔

اتوار کو کیے جانے والے اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کی تھی اور اس میں کل 19 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے دارالحکومت جلال آباد میں یہ خود کش حملہ اس وقت کیا گیا تھا جب شہر کی اقلیتی برادریوں کے نمائندے ننگرہار کے دورے پر آنے والے صدر اشرف غنی سے ملاقات کے لیے جارہے تھے۔

حملے میں مرنے والوں میں 13 سکھوں کے علاوہ پانچ ہندو بھی شامل ہیں۔ خود کش حملہ آور نے ان افراد کی گاڑی کو شہر کے مخابرت اسکوائر نامی علاقے میں نشانہ بنایا تھا۔

اس حملے میں اوتار سنگھ خالصہ نامی سکھ رہنما بھی مارے گئے تھے جو افغانستان میں 20 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں واحد سکھ امیدوار تھے۔

اس حملے کے بعد جلال آباد اور افغانستان کے دیگر علاقوں میں آباد ہندو اور سکھ خوف اور افغانستان میں اپنے مستقبل کے بارے میں خدشات کا شکار ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق حملے میں ہلاک ہونے والے بعض افراد کے لواحقین نے ادارے کے نمائندے سے گفتگو میں افغانستان میں اپنی سلامتی کے بارے میں غیر یقینی اور بھارت ہجرت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

افغانستان میں ہندوؤں اور سکھوں کی نمائندہ تنظیم کے سیکریٹری تیجور سنگھ نے 'رائٹرز' سے گفتگو میں کہا ہے کہ انہیں اس بارے میں اب کوئی شبہ نہیں رہا کہ اب وہ افغانستان میں مزید نہیں رہ سکتے۔

تیجور سنگھ کے بقول وہ افغان ہیں اور افغان حکومت بھی ان کی شناخت تسلیم کرتی ہے۔ لیکن چوں کہ وہ مسلمان نہیں لہذا دہشت گرد انہیں اور ان کی مذہبی رسومات کو برداشت کرنے پر تیار نہیں۔

تیجور سنگھ کے مطابق اس وقت افغانستان میں سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد 300 سے بھی کم رہ گئی ہے اور ملک بھر میں ان کے صرف گوردوارے باقی بچے ہیں۔ ان میں سے ایک کابل اور دوسرا جلال آباد میں ہے۔

گو کہ افغانستان تاریخی طور پر مسلم اکثریتی ملک رہا ہے لیکن 1990ء کی دہائی میں ہونے والی خانہ جنگی سے قبل تک یہاں ڈھائی لاکھ سکھ اور ہندو آباد تھے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق محض ایک دہائی قبل تک افغانستان میں تین ہزار ہندو اور سکھ رہ رہے تھے۔ لیکن مسلسل بدامنی اور اپنی سلامتی کے متعلق خدشات کے پیشِ نظر اب ان میں سے بیشتر بھارت یا دنیا کے دوسرے ملکوں کو ہجرت کرچکے ہیں۔

بھارتی حکومت نے افغان سکھوں اور ہندووں کو طویل المدت ویزے جاری کر رکھے ہیں تاکہ انہیں افغانستان سے آنے اور جانے میں سہولت رہے۔

جلال آباد میں اتوار کو ہونے والے حملے کے بعد بھی شہر میں آباد کئی سکھ اور ہندو خاندانوں نے افغان قونصل خانے میں پناہ لی ہے۔

'رائٹرز' سے گفتگو کرتے ہوئے جلال آباد میں کتابوں اور کپڑے کی ایک دکان کے مالک بلدیو سنگھ نے کہا کہ ان کے پاس اب صرف دو ہی راستے رہ گئے ہیں کہ یا تو وہ بھارت ہجرت کرجائیں یا اسلام قبول کرلیں۔

افغانستان میں بھارت کے سفیر وِنے کمار کا کہنا ہے کہ تمام افغان ہندو اور سکھ بغیر کسی رکاوٹ کے بھارت میں رہ سکتے ہیں لیکن اس ہجرت کا حتمی فیصلہ انہیں خود ہی کرنا ہے۔

وِنے کمار کے بقول ان کا سفارت خانہ خود کش حملے میں مرنے والے سکھوں اور ہندوؤں کی آخری رسومات کی ادائیگی کے انتظام میں مدد کر رہا ہے۔

لیکن بعض افغان سکھ ایسے بھی ہیں جو حالات کی خرابی کے باوجود بھارت نہیں جانا چاہتےاور ان کا کہنا ہے کہ افغانستان ہی ان کا وطن ہے اور وہ یہیں رہیں گے۔

کابل کے ایک سکھ دکاندار سندیپ سنگھ نے 'رائٹرز' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ بزدل نہیں اور اپنا ملک چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے۔

بھارتی سفارت خانے نے اتوار کے حملے میں مرنے والے تمام ہندووں اور سکھوں کی میتیں بھارت منتقل کرنے کی پیشکش بھی کی تھی جسے بیشتر مرنے والوں کے لواحقین نے مسترد کردیا ہے۔

آخری اطلاعات آنے تک کم از کم نو افراد کی آخری رسومات سکھ مذہب کے طریقے کے مطابق جلال آباد میں ہی ادا کردی گئی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG