رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان: خودکش بم دھماکے میں کم ازکم 33 ہلاک


یہ امر قابل ذکر ہے کہ جنگ سے تباہ حال اس ملک میں پرتشدد کارروائیاں کرنے والے طالبان نے اس تازہ واقعے کی ذمہ داری سے انکار کیا ہے۔

افغانستان میں ہفتہ کی صبح ہونے والے ایک خودکش بم دھماکے میں کم ازکم 33 افراد ہلاک اور ایک سو سے زائد زخمی ہو گئے۔

پولیس حکام کے مطابق مشرقی شہر جلال آباد میں یہ دھماکا ایک بینک کے باہر ہوا جہاں سرکاری ملازمین اپنی تنخواہیں وصول کرتے ہیں۔

شہر کی پولیس کے سربراہ فضل احمد شیرزاد نے صحافیوں کو بتایا کہ اس بات کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ کیا خودکش دھماکے کے بعد جائے وقوع پر مزید بھی کوئی دھماکا ہوا یا نہیں۔

"یہ خودکش حملہ تھا۔ پولیس تاحال یہ پتا چلا رہی ہے کہ حملہ آور نے اپنے جسم سے بارودی مواد باندھ رکھا تھا یا پھر اس نے اپنی گاڑی میں دھماکا خیز مواد رکھا ہوا تھا۔ فی الوقت خودکش حملے کی نوعیت کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔"

یہ امر قابل ذکر ہے کہ جنگ سے تباہ حال اس ملک میں پرتشدد کارروائیاں کرنے والے طالبان نے اس تازہ واقعے کی ذمہ داری سے انکار کیا ہے۔

خبررساں ایجنسی "رائٹرز" کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے انھیں بتایا کہ "یہ شیطانی اقدام ہے، ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔"

پولیس کے مطابق شہر میں ایک تیسرے بم دھماکے کی بھی اطلاع ہے لیکن اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کے افغانستان میں مشن نے اس حملے کی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

گزشتہ دسمبر میں افغانستان سے بین الاقوامی افواج کا انخلا مکمل ہو چکا ہے اور سلامتی کی ذمہ داریاں مقامی فورسز کو منتقل کی جا چکی ہیں۔

ایک معاہدے کے تحت لگ بھگ 12000 نیٹو فوجی جن میں اکثریت امریکیوں کی ہے، افغانستان میں رہتے ہوئے مقامی سکیورٹی فورسز کی تربیت اور انسداد دہشت گردی میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں طالبان عسکریت پسندوں کی طرف سے ملک کے مختلف حصوں میں پرتشدد کارروائیوں اور ہلاکت خیز حملوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG