رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان کا افغانستان میں تازہ ’مسلح کارروائیوں‘ کا اعلان


عسکریت پسندوں کا کہنا تھا کہ گو کہ بین الاقوامی فورسز افغانستان میں اپنی فوجی کارروائیوں کو ختم کرنے کا اعلان کر چکی ہیں لیکن وہ اب بھی "سکیورٹی معاہدے" کے ذریعے قومی امور کو چلا رہی ہیں۔

افغانستان میں طالبان نے موسم بہار کی اپنی کارروائیوں کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے ملک میں موجود باقی ماندہ بین الاقوامی فوجوں کے فوری انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔

بدھ کو ذرائع ابلاغ کو بھیجی گئی ایک ای میل میں عسکریت پسندوں نے کہا کہ وہ جمعہ سے اپنی نئی کارروائی کا آغاز کر رہے ہیں اور انھیں "عزم" کا نام دیا گیا ہے۔

"اس میں غیر ملکی (فوجیوں)، ان کے مستقل فوجی اڈوں، ان کے انٹیلی جنس اور سفارتی مراکز کو نشانہ بنایا جائے گا۔"

طالبان نے افغان انٹیلی جنس، وزارت داخلہ اور وزارت دفاع کو بھی نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گو کہ بین الاقوامی فورسز افغانستان میں اپنی فوجی کارروائیوں کو ختم کرنے کا اعلان کر چکی ہیں لیکن وہ اب بھی "سکیورٹی معاہدے" کے ذریعے قومی امور کو چلا رہی ہیں۔

گزشتہ دسمبر میں بیشتر بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد ایک سکیورٹی معاہدے کے تحت نیٹو اور امریکہ کے لگ بھگ 12000 فوجی افغانستان میں موجود ہیں۔

طالبان نے اپنے بیان میں کہا کہ "غیر ملکی قابضین اب بھی ڈرون حملے اور شہریوں کے خلاف رات کو آپریشنز کر رہے ہیں۔"

ایسے خدشات کا اظہار بھی کیا جارہا ہے کہ رواں سال "لڑائی کا سلسلہ" بہت ہی پرتشدد ہو سکتا ہے۔

اقوام متحدہ یہ کہہ چکی ہے کہ اس سال کے پہلے تین ماہ کے دوران زمینی لڑائیوں میں مرنے والوں کی شرح میں گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران ہونے والی اموات کی نسبت آٹھ فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ کے اواخر تک 135 عام شہری ہلاک اور 385 زخمی ہوگئے تھے۔

XS
SM
MD
LG