رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان غیر قانونی طریقوں سے وسائل اکٹھے کرتے ہیں: رپورٹ


رپورٹ کے مطابق طالبان کے بڑھتے ہوئے مالی وسائل کا انحصار مالدار کاروباری افراد کے اغوا برائے تاوان سے حاصل ہونے والی رقوم پر ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اغوا، منشیات اور غیر قانونی کان کنی پر انحصار نے طالبان کو ایک مجرمانہ ’انٹرپرائز‘ میں تبدیل کر دیا ہے۔

طالبان پر عائد پابندیوں کی نگرانی کرنے والے اقوام متحدہ کے ماہرین کی رپورٹ جمعہ کو صحافیوں کو دی گئی اور ایسا افغانستان میں صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے انعقاد سے صرف ایک روز قبل کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ طالبان نے افغان کاروباری برداری سے تعلق رکھنے والے بیرون ملک مقیم افراد سے رضاکارانہ اور زبردستی چندہ وصول کرنے کے علاوہ ملک میں رقوم اکٹھے کرنے کا منظم نظام بنا رکھا ہے۔

رپورٹ کے مطابق طالبان کے بڑھتے ہوئے مالی وسائل کا انحصار مالدار کاروباری افراد کے اغوا برائے تاوان سے حاصل ہونے والی رقوم پر ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ افغانستان کے صوبے نمروز اور قندھار میں طالبان مالی وسائل کے حصول کے حوالے سے خودکفیل ہیں تاہم باقی اپنی مرکزی قیادت کی طرف سے وسائل حاصل کرتے ہیں۔

ماہرین نے رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ قندھار میں طالبان منشیات، بھتہ خوری اور غیر قانونی کان کنی لاکھوں ڈالرز ماہانہ حاصل کرتے ہیں۔

رپورٹ میں صوبہ ہلمند کا بھی ذکرکیا گیا ہے جہاں وسیع رقبے پر پوست کی کاشت ہوتی ہے اس صوبے کا شمار طالبان کے لیے سب سے زیادہ رقوم اکٹھے کرنے والے علاقوں میں ہوتا ہے۔

طالبان پر 1999 سے اقوام متحدہ کی تعزیرات عائد ہیں، جن میں بین الاقوامی اثاثوں کو منجمد کرنے کے علاوہ ان کے کئی ساتھیوں پر سفری پابندیاں بھی شامل ہیں۔
XS
SM
MD
LG