رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان اور افغان فورسز کے درمیان جھڑپیں، دونوں اطراف درجنوں ہلاکتیں


قندھار، فوجی قافلہ (فائل)

افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان اور سرکاری فوج کے درمیان لڑائی کا سلسلہ جاری ہے۔ پر تشدد کارروائیوں کے باعث بین الافغان امن مذاکرات کا راستہ مسدود ہوتا جا رہا ہے۔

طالبان اور سرکاری فوجوں کے درمیان تازہ ترین جھڑپیں جنوبی صوبے قندھار اور زابل میں ہوئی ہیں۔ افغان محکمۂ دفاع کے مطابق، منگل کو ہونے والی ان جھڑپوں کے دوران تقریباً 50 عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

دوسری جانب طالبان کا کہنا ہے کہ پیر کی رات کو وردک صوبے میں اس کے ایک خود کش بمبار نے افغان نیشنل آرمی کے ایک منی ٹرک کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔

طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں 50 کے قریب سیکیورٹی اہل کار ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ افغانستان کے محکمۂ دفاع کے حکام نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملے میں آٹھ فوجی ہلاک اور نو زخمی ہوئے ہیں۔

دریں اثنا، طالبان نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے افغان سیکورٹی فورسز کے مزید 16 اہل کاروں کو رہا کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت ایک ہزار سیکورٹی اہل کاروں کو رہا کرنا تھا، جن میں سے 861 کو رہا کیا جا چکا ہے، جب کہ افغان حکومت کو پانچ ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کیا جانا تھا، جن میں ابھی تک تقریاً 4,400 رہا ہوئے ہیں۔

طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے میں افغانستان کی حکومت شامل نہیں تھی۔ چنانچہ وہ بقیہ 600 کے قریب قیدیوں کو رہا کرنے میں پس و پیش کر رہی ہے۔

اسی معاہدے کے تحت مارچ میں بین الافغان امن مذاکرات ہونے تھے، جو قیدیوں کی رہائی کی وجہ سے کھٹائی میں پڑے ہوئے ہیں۔

صدارتی ترجمان صدیقی نے بار بار زور دے کر کہا ہے کہ سنگین جرائم میں ملوث طالبان قیدیوں کو رہا نہیں کیا جائے گا۔ دوسری طرف طالبان کے ایک سینئر لیڈر محمد عمر عمیری نے افغان حکومت کے اس موقف کو غلط اور مذاکرات کو ٹالنے کا بہانہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر قیدیوں کی رہائی کا مسئلہ طئے ہو جاتا تو مذاکرات کبھی کے شروع ہو گئے ہوتے اور ممکن ہے فائر بندی بھی ہو جاتی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG