رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان کا 72 قیدی رہا کرنے کا عندیہ، امریکی تنبیہہ نظر انداز


افغانستان کی جانب سے آنے والے اس حالیہ فیصلے سے افغانستان اور امریکہ کے درمیان سرد مہری میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

افغانستان کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ افغانستان اُن 72 قیدیوں کو رہا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جنہیں امریکہ خطرناک قیدی قرار دیتا ہے اور جو امریکہ کے مطابق سیکورٹی کے لیے خطرہ ہیں۔

افغانستان کی جانب سے آنے والے اس حالیہ فیصلے سے افغانستان اور امریکہ کے درمیان سرد مہری میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔

امریکہ چاہتا ہے کہ افغانستان میں 2014ء میں غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد بھی چند دستے وہاں موجود رہیں اور افغانستان اس حوالے سے سیکورٹی معاہدے پر جلد دستخط کرے۔ دوسری جانب افغان صدر حامد کرزئی نے اب تک اس معاہدے پر دستخط کرنے پر آمادگی نہیں ظاہر کی ہے۔

افغان صدر حامد کرزئی کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق خطرناک تصور کیے جانے والے 88 قیدیوں کی جانچ پڑتال کے بعد 45 قیدیوں کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملے جبکہ 27 قیدیوں کے خلاف صرف واقعاتی شہادتیں ملی ہیں، جن کی بنیاد پر ان قیدیوں پر مقدمات نہیں چلائے جا سکتے۔

16 قیدیوں کو رہا نہیں کیا جائے گا۔

گذشتہ ہفتے افغانستان کے دورے پر گئے امریکی سینیٹرز کے ایک وفد نے کہا تھا کہ بگرام جیل سے قیدیوں کو ٹرائل کے بغیر رہا کرنے سے افغانستان اور امریکہ کے تعلقات کو زک پہنچے گی۔

امریکی عہدیداروں کا موقف ہے کہ ان 88 قیدیوں نے اتحادی افواج کے 67 فوجیوں کو قتل کیا جبکہ یہ قیدی 57 افغانوں کے قتل کے بھی ذمہ دار ہیں۔
XS
SM
MD
LG