رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان: طالبان کےخودکش حملے میں کم از کم 9 فوجی ہلاک


فائل فوٹو

افغانستان کے جنوب میں ایک خودکش طالبان بمبار نے پیر کے روز دھماکہ خیز مواد سے بھری اپنی گاڑی کو ایک فوجی اڈے کے قریب اڑا دیا جس کے نتیجے میں کم از کم 9 فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

حکام نے بتایا ہے کہ حملہ آوروں نے خودکش دھماکہ ہلمند صوبے کے نادعلی ضلع میں کیا جہاں زیادہ تر علاقہ طالبان کے کنٹرول میں ہے یا جہاں وہ مزاحمت جاری رکھے ہوہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس دھماکے کے نتیجے میں افغان نیشنل آرمی کی تنصیب کو بھاری نقصان پہنچا۔

ہنگامی امداد کے کارکن ملبے میں سے نعشیں نکال رہے ہیں اور ڈسٹرکٹ چیف برالی نظری نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ اس نے سیکیورٹی فورسز کے درجنوں افراد کو ہلاک اور کئی بکترگاڑیاں تباہ کر دی ہیں۔ حملہ آوروں کے اکثر دعوؤں میں مبالغہ آرائی کا عنصر رہا ہے۔

مشرقی صوبے غزنی کے پولیس سربراہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اتوار کو رات گئے طالبان کے ایک حملے میں افغان نیشنل آرمی کے چھ اہل کار ہلاک ہو گئے۔

تشدد کے یہ واقعات ایک ایسے وقت میں رونما ہوئے ہیں جب قطر میں امریکہ اور طالبان کے مذاکرات کاروں گفت و شنید جاری ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے ان مذاکرات کی معطلی کے بعد ایک بار پھر بات چیت کا عمل شروع ہوا ہے۔

امریکہ کے اعلیٰ مذاکرات کار زلمے خلیل زاد نے مذاکرات کا یہ تازہ ترین دور یہ کہتے ہوئے پھر سے شروع کیا ہے کہ طالبان کو تشدد سے روکنا اور بین الافغان مذاکرات کی طرف جانا ان کے مشن کا حصہ ہے تاکہ افغانستان کے اندر دشمنیوں کا مستقل طور پر خاتمہ ممکن ہو سکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG