رسائی کے لنکس

افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ افغان اور غیر ملکی اسپیشل فورسز نے جنوبی صوبے ہلمند میں طالبان کی جیل پر چھاپہ مار کر کم از کم 30 افراد کو بازیاب کروا لیا ہے۔

افغان فوج اور صوبائی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جن افراد کو طالبان کی قید سے بازیاب کروایا گیا ان میں 12 سال سے کم عمر چار بچے اور دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

ان میں 20 افراد وہ تھے جنہیں طالبان نے حکومت کی مدد کرنے یا ان کے خاندان کے کسی فرد کا تعلق افغان فوجیوں یا پولیس اہلکاروں سے ہونے پر یرغمال بنا رکھا تھا۔

فوج کی 215 ویں میوند کور کے نائب ترجمان عبدالقادر بہادر زئی کا کہنا ہے کہ حراست میں رکھے گئے چھ افراد ایسے ہیں جن کے بارے میں تحقیقات کی جارہی ہیں کہ انہیں طالبان نے کیوں پکڑا تھا۔

طالبان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جن افراد کو بازیاب کروایا گیا ہے وہ جرائم پیشہ عناصر تھے اور انہیں ڈکیتی، اغوا، ذاتی دشمنی اور ان الزامات کے تحت حراست میں رکھا گیا تھا اور ان کے مقدمات کی ابھی سماعت ہونا باقی تھی۔

طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے ایک بیان میں کہا کہ "جیل میں کوئی ایسا شخص بند نہیں تھا جس کا تعلق دشمن سے تھا اور (جہاں انہیں رکھا گیا) وہاں مناسب سیکورٹی نہیں تھی۔"

افغانستان میں ہونے والے طالبان باغیوں کی کارروائیوں کا نشانہ نا صرف سرکاری فورسز ہیں بلکہ بعض اوقات عام شہری بھی ان کا نشانہ بنتے ہیں اس کے علاوہ عسکریت پسند ملکی اور غیر ملکی افراد کو اغوا کر کے انہیں حراست میں رکھنے کی سرگرمیوں میں بھی ملوث ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG