رسائی کے لنکس

عراق میں بغیر الزام کے 1000سے زائد لوگ قید ہیں: ایمنسٹی


فائل
فائل

’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ کے سکریٹری جنرل، سلیل شیٹی نے کہا ہے کہ اِن قیدیوں کو ایک مربعہ میٹر فی کس سے بھی کم جگہ میں ٹھونس دیا گیا ہے، اور دِن رات اِسی تنگ مقام پر ٹنگے ہوئے ہیں، جو نہ لیٹ سکتے ہیں نہ ٹانگیں سیدھی کر سکتے ہیں، اور اُنھیں تازہ ہوا میں سانس لینے کی کبھی کبھار ہی اجازت دی جاتی ہے

حقوق انسانی کے ایک بین الاقوامی گروپ کا کہنا ہے کہ عراق میں عارضی انتظام کے تحت چلائے جانے والےانسداد دہشت گردی کے مراکز میں 1000 سے زائد افراد کو بغیر الزام کے قید رکھا جا رہا ہے۔

’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ کے سکریٹری جنرل، سلیل شیٹی نے کہا ہے کہ اِن قیدیوں کو ایک مربعہ میٹر فی کس سے بھی کم جگہ میں ٹھونس دیا گیا ہے، اور دِن رات اِسی تنگ مقام پر ٹنگے ہوئے ہیں، جو نہ لیٹ سکتے ہیں نہ ٹانگیں سیدھی کر سکتے ہیں، اور اُنھیں تازہ ہوا میں سانس لینے کی کبھی کبھار ہی اجازت دی جاتی ہے۔

شیٹی نے گذشتہ ماہ اِن مراکز میں سے ایک کا دورہ کیا۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اِن میں سے متعدد افراد کو اُس وقت پکڑا گیا تھا جب اعراقی افواج نے اُن کے قصبہ جات کو داعش سے واگزار کرایا۔ کئی ایک پر اس شدت پسند گروپ کے ساتھ ساز باز کا شبہ ہے۔

پکڑے گئے اِن لوگوں میں سے کسی پر بھی ضابطہ کار کے مطابق الزام عائد نہیں۔

انسداد دہشت گردی سے متعلق اہل کاروں نے ایمنسٹی کو بتایا کہ اُن کے پاس اہل کاروں کی کمی ہے جس کے باعث اُن سے بروقت پوچھ گچھ نہیں کی جاسکی، ناہی حراست میں لیے گئے افراد سے مناسب طریقے سے پیش آیا جاتا ہے۔

شیٹی نے کہا کہ یہ مسئلہ عراق کے انصاف کے نظام میں شدید نقائص کی علامت ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’اس بات میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ وقت کے دوران عراق میں سکیورٹی کے غیرمعمولی چیلنج درپیش ہیں، جب آئے دِن داعش شہریوں کے خلاف مظالم ڈھا رہا ہے‘‘۔

بقول اُن کے، ’’تاہم، اِس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ اس سے عراقی حکام کی ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے کہ اُنھیں تمام عراقیوں کے انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے‘‘۔

’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ نے کہا کے کہ امیریہ الفلوجہ میں انبار کے انسداد دہشت گردی کے ادارے کے ایک مرکز پر 683 قیدی بند ہیں۔ زیر حراست سینکڑوں افراد کو حبانیہ کے قریب عارضی انتظام کے طور پر چلائے جانے والے ایک مرکز پر اسی قسم کی صورت حال درپیش ہے۔

XS
SM
MD
LG