رسائی کے لنکس

logo-print

ایڈز کے مریضوں کے ساتھ تعصب کی روک تھام پر زور


بلند و بالا ستونوں اور مجسموں سے آراستہ ویانا پارلیمنٹ کی تاریخی عمارت منگل کو آسٹریا کی نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی پارلیمنٹ کا منظر پیش کر رہی تھی کیونکہ ایڈز سے متعلق موضوعات پر بات کرنے کے لیے دنیا کے کئی ممالک کی پارلیمنٹ کے ارکان یہاں جمع تھے۔

منگل کے اجلاس کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا جس کے پہلے سیشن میں یہ بات زیر غور آئی کہ قانون سازی سے صحت عامہ کے مسائل کس طرح حل کیے جائیں، جبکہ دوسرے سیشن میں اس بیماری سے متاثرہ ماؤں سے ان کے نوزائیدہ بچوں میں بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کی تدابیر زیر غور آئیں۔

پاکستان سے اس میٹنگ میں شرکت کے لیے سات افراد کا ایک وفد آیا تھا جس کی سربراہی پاکستانی سینٹ میں قائدایوان سینیٹرنیّر حسین بخاری کر رہے تھے۔ انہوں نے ایڈز کے حوالے سے بیرون ملک پاکستانیوں کو درپیش مشکلات دنیا کے سامنے پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی جو روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جاتے ہیں، اگر کسی وجہ سے ایچ آئی وی یا ایڈز کا شکار ہو جائیں تو انہیں یا تو ملک بدر کر دیا جاتا ہے یا ان کے ویزا کی مدت میں توسیع نہیں کی جاتی۔

سینیٹربخاری کے مطابق ایک عالمی پالیسی کے تحت ایڈز کے مریضوں کے ساتھ اس تعصب کی روک تھام کی جائے۔

اس سیشن کی دعوت آسٹریا کی پارلیمنٹ کی اسپیکر باربرا پریمر نے دی تھی اور اس کا مقصد دنیا کے مختلف ممالک کے منتخب نمائندوں کو ایڈز کے حوالے سے ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے ایک عالمی حکمت عملی تیار کرنا تھا۔

XS
SM
MD
LG