رسائی کے لنکس

logo-print

18 بین الاقوامی ایڈز کانفرنس ویانا میں ختم


گزشتہ ایک ہفتے سے ویانا آسٹریا میں جاری 18ویں بین الاقوامی ایڈز کانفرنس کے اختتام پر جہاں نئی سائنسی تحقیق نے لوگوں میں امید کی کرن پیدا کی وہیں جی ایٹ ممالک کی طرف سے فنڈنگ کی کمی پر لوگوں میں مایوسی بھی پائی گئی۔

ایک ہفتے کی اس کانفرنس میں ایڈز کے مقابلے کے لیے جدید ترین ادویات اور سائنسی تحقیقات کے علاوہ ان سماجی مسائل پر بھی بات چیت ہوئی جن کا بالواسطہ یا بلا واسطہ ایڈز کے پھیلاؤ سے تعلق ہے۔

کانفرنس کے اعلامیے، ویانا ڈیکلریشن، میں منشیات کے عادی لوگوں کو مجرم نہیں مریض سمجھنے پر زور دیا گیا۔

ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ایڈز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے کے تمام طبقوں کو بنیادی حقوق حاصل ہوں۔

حاملہ عورت سے بچے میں وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جدید ترین دوائیوں سے ایڈز کے لیے کام کرنے والے بہت پر امید نظر آئے۔ اس کے ساتھ ہی خواتین کے لیے ایک ایسے جل کو متعارف کرایا گیا جس کے استعمال سے جنسی عمل کے دوران ایچ آئی وی انفکشن میں مبتلا ہونے کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔

نئی سائنسی تحقیق نے اس پرانی دلیل کو تقویت بخشی کہ ختنہ کروانے سے مردوں میں وائرس لگنے کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔

البتہ ایک ہفتے کی کانفرنس کے بعد مندوبین میں کانفرنس کے حوالے سے ملے جلے جذبات سامنے آئے۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ جب عالمی معاشی بحران ہے اور وسائل کی کمی ہے تو لاکھوں ڈالر ایسی کانفرنس پر لگانے کا کیا مقصد ہے۔

دوسری طرف کچھ لوگ اس کانفرنس سے کافی متاثر نظر آئے۔ مثلاً یو این پاپولیشن فنڈ کی طرف سے پاکستان کی مندوب حرا حفیظ الرحمٰن کا خیال تھا کہ انہوں نے اس کانفرنس سے کافی کچھ سیکھا ہے اور انہیں نہ صرف نئے پراجیکٹس ملے ہیں بلکہ اب وہ ایک عالمی نیٹ ورک کا حصہ بن گئی ہیں جس سے انہیں مستقبل میں کافی مدد ملے گی۔

عالمی طبی اداروں اور ایڈزکے خلاف کام کرنے والے سرگرم کارکنوں میں یہ مایوسی بھی نظر آئی کہ امیر ممالک نے اس مسئلے کی طرف سے اپنی توجہ ہٹا لی ہے اور ایڈز کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے مالی امداد کے وعدہ پورے نہیں ہوئے۔

اگلی بین الاقوامی ایڈز کانفرنس دو سال بعد امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ہوگی۔

XS
SM
MD
LG