رسائی کے لنکس

logo-print

’طلوع صبح کی بچی‘ نے قدیم تاریخ کا دروازہ کھول دیا


الاسکا میں دریائے سن کے قریب ساڑھے گیارہ ہزار سال پرانی انسانی آبادی کی ایک تصوراتی تصویر

الاسکا سے ملنے والی ایک نامعلوم بچی کی باقیات نے ، جو لگ بھگ ساڑھے گیارہ ہزار سال پہلے ہلاک ہو گئی تھی، انسانی تاریخ کے گم شدہ پہلو کو اجاگر کیا ہے۔

سائنس دانوں نے بچی کی باقیات کے جینیاتی کے تجزیے کے بعد کہا ہے کہ اس کا تعلق قدیم امریکی آبادی سے تھا جو سائبیریا سے نقل مکانی کرنے کے بعد براعظم امریکہ آباد ہو گئی تھی۔

سائنسی مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ نقل مکانی اندازً 20 ہزار سال پہلے ہوئی تھی۔

یونیورسٹی آف الاسکا کے سائنس دان اور ماہر آثار قدیمہ بن پورٹر نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس تحقیق سے ہمیں تاریخ سے متعلق یہ جینیاتی شواہد ملے ہیں کہ کرہ ارض کے آخری برفانی دور میں انسانی نسل کہاں آباد تھی اور اس نے کن علاقوں کی جانب نقل مکانی کی۔

آثار قدیمہ کے ماہرین الاسکا میں دریائے سن کے قریب واقع ہزاروں سال پرانی انسانی آبادی کی کھدائی کر رہے ہیں۔
آثار قدیمہ کے ماہرین الاسکا میں دریائے سن کے قریب واقع ہزاروں سال پرانی انسانی آبادی کی کھدائی کر رہے ہیں۔

پورٹر اور اس کی ٹیم کے ارکان نے بتایا کہ انہیں اس بچی کی باقیات 2013 میں الاسکا کے دریائے سن کے ساتھ واقع ایک قدیم آبادی کے آثار سے کھدائی کے دوران ملیں تھیں۔

اس بچی کو انہوں نے قدیم آبادی کی زبان میں ’ ایکس چی ٹی آنن ٹی ڈی گائے‘ کا نام دیا ہے جس کا مطلب ہے’ طلوع صبح کی بچی‘۔

ماہر آثار قدیمہ پورٹر نے کہا کہ اس بچی کی دریافت سے اس عہد کے لوگوں کی تاریخ اور زندگی کے متعلق جاننے کے لیے ایک ایسی کھڑکی کھل گئی ہے جس کی اس سے پہلے کوئی نظیر موجود نہیں ہے۔

ٹیم کے ارکان کو توقع ہے کہ بچی کا جینیاتی نقشہ ، امریکہ کی قدیم آبادیوں کے ان گروپوں سے مل جائے گا جو آج ہمارے درمیان موجود ہیں۔ اور اگر ایسا نہ ہو سکا تو پھر اس کا تعلق قدیم آبادی کے ایک نامعلوم گروپ سے ہوگا جسے سائنس دانوں نے’ قبل از تاریخ بیرنگی انز ‘ کا نام دیا۔

پورٹر کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو یہ قبل از تاریخ آبادی کا ایک ایسا گروپ ہوگا جس کے بارے میں ہم اس سے پہلے نہیں جانتے تھے۔

ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ بچی کے جینیاتی نقشے سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ اس کی کچھ چیزیں قدیم امریکیوں سے ملتی ہیں۔

اس پر اجیکٹ پر کام کرنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ قدیم امریکی آبادی کے اسلاف تقریباً 36 ہزار سال پہلے اس علاقے میں رہتے تھے جو آج روس کہلاتا ہے۔ پھر وہ کسی وجہ سے اپنے ان مشرقی ایشیائی آباؤاجداد سے بچھڑ کر امریکہ میں آباد ہو گئے۔

سائنس دانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ قدیم امریکیوں کے اسلاف کا تعلق آبادی کے اس گروپ سے تھا جس کی ایک شاخ آج چین میں ’ہان‘ کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG