رسائی کے لنکس

فلم 'دی لیجنڈ آف مولا جٹ' کے خلاف مقدمات واپس


فائل فوٹو

سرور بھٹی کا کہنا ہے کہ انہوں نے سنیما کی بحالی اور پاکستان فلم انڈسٹری کی بقا کے لیے ایسا کیا ہے۔ عمارہ حکمت اور بلال لاشاری جب چاہیں یہ فلم ریلیز کرسکتے ہیں، میں ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنوں گا۔

فلم 'دی لیجنڈ آف مولا جٹ' کے خلاف تمام قانونی مقدمات واپس لے لیے گئے ہیں۔ اس بات کا اعلان فلم کی پروڈیوسر عمارہ حکمت نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیا۔

فلم 'دی لیجنڈ آف مولا جٹ' کے خلاف 1979 میں بننے والی اوریجنل فلم 'مولا جٹ' کے پروڈیوسر اور باہو فلمز کارپوریشن کے چیف آپریٹنگ آفیسر سرور بھٹی نے ہدایت کار بلال لاشاری اور پروڈیوسر عمارہ حکمت پرکاپی رائٹ کی خلاف ورزی کا مقدمہ دائر کیا تھا۔

عدالت میں دائر درخواست میں سرور بھٹی کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ فلم پروڈیوز کرنے کے حوالے سے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا نہ ہی ان کی رضا مندی لی گئی۔

عدالت میں سماعت کے سبب فلم دو سال سے قانونی تنازعات میں الجھی ہوئی تھی تاہم اب عمارہ حکمت نے سوشل میڈیا ویب سائٹ پر دعویٰ کیا ہے کہ فلم کے خلاف تمام مقدمات واپس لے لیے گئے ہیں اور سرور بھٹی ان تمام قانونی کیسز سے دستبردار ہوگئے ہیں۔

عمارہ حکمت سے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بھی کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔ سرور بھٹی نے کیسز میں یہی موقف اپنایا تھا۔

قامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سرور بھٹی کا مقدمات واپس لینے کے حوالے سے کہنا ہے کہ انہوں نے تمام چیزوں کو پیچھے چھوڑدیا ہے۔ عمارہ حکمت اور بلال لاشاری میرے بچوں کی طرح ہیں۔ کسی نے انہیں گمراہ کیا تھا بہرحال تمام بچے غلطیاں کرتے ہیں لیکن اب میں نے ان تمام چیزوں کو پیچھے چھوڑدیا ہے۔

سرور بھٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے سنیما کی بحالی اور پاکستان فلم انڈسٹری کی بقا کے لیے ایسا کیا ہے۔

ان کے بقول عمارہ حکمت اور بلال لاشاری جب چاہیں یہ فلم ریلیز کرسکتے ہیں، میں ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنوں گا۔

فلم کی کاسٹ میں ماہرہ خان، حمزہ علی عباسی اور عمائمہ ملک شامل ہیں۔

فلم 'مولا جٹ' 1979 میں ریلیز ہوئی تھی اور اسے پاکستان فلم انڈسٹری کی کامیاب ترین فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔

فلم کی اسی کامیابی اور شہرت کو مد نظر رکھا کر اسے ایک نئے انداز میں بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG