رسائی کے لنکس

logo-print

بنگلہ دیش میں بلاگر کا قتل القاعدہ سے وابستہ گروہ نے کیا: انٹیلی جنس گروپ


’ایس آئی ٹی ای‘ کے مطابق شدت پسند گروپ کا کہنا ہے کہ اُس نے بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں صمد پر حملہ اس لیے کیا کیوں کہ اُنھوں نے مبینہ طور پر ’’خدا کی شان میں گستاخی‘‘ کی۔

دہشت گرد گروہوں کی کارروائیوں پر نظر رکھنے والے ایک امریکی گروپ کے مطابق القاعدہ سے جڑے ایک گروہ نے رواں ہفتے بنگلہ دیش میں ایک بلاگر کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

انٹیلی جنس گروپ ’ایس آئی ٹی ای‘ نے کہا ہے کہ القاعدہ کی برصغیر میں شاخ انصار اسلام نے بنگلہ دیش کے بلاگر ناظم الدین صمد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

’ایس آئی ٹی ای‘ کے مطابق شدت پسند گروپ کا کہنا ہے کہ اُس نے بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں صمد پر حملہ اس لیے کیا کیوں کہ اُنھوں نے مبینہ طور پر ’’خدا کی شان میں گستاخی‘‘ کی۔

خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کے مطابق شدت پسند گروپ کی طرف سے بھیجے کے پیغام کے حقیقی ہونے کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی تاہم ’ایس آئی ٹی ای‘ کے مطابق شدت پسند گروپ نے اپنے دعوے کی تصدیق کے لیے ’ڈیجیٹیل سگنیچر‘ لنک بجھوایا ہے۔

آزاد خیال ناظم الدین بنگلہ دیش کی جگن ناتھ یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کر رہے تھے کہ بدھ کو اُنھیں تیز دھار آلے سے وار کرنے کے بعد گولی مار کر ہلاک کردیا۔

حملہ آور ’’اللہ اکبر‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

امریکہ کی طرف سے اس ’’بہیمانہ‘‘ قتل کی شدید مذمت کی گئی تھی۔

ڈھاکا پولیس کا ماننا ہے کہ ناظم کو اُن کے آزاد خیال موقف کی بنا پر نشانہ بنایا گیا اور وہ سخت گیر اسلام کے ناقد تھے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایسے حملے روکنے میں ناکامی پر بنگلہ دیش کی حکومت پر تنقید کی ہے۔ 2013ء سے اب تک بنگلہ دیش میں کم از کم چھ بلاگ اور ایک آزاد خیال ناشر کو قتل کیا جا چکا ہے۔

ناظم الدین جس یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہے تھے اُس جامعہ کے سیکڑوں طالب علموں نے اس قتل پر احتجاج کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG