رسائی کے لنکس

غزہ ایمبولنس حملے پر عالمی ادارۂ صحت کی تشویش، اسرائیل کے مطابق حماس کے جنگجو مارے گئے

3 نومبر، 2023 کو غزہ شہر میں شفا ہسپتال کے داخلی دروازے پر ایمبولینسوں کے قافلے کو نشانہ بنائے جانے کے بعد فلسطینی ایک ایمبولینس کھینچ رہے ہیں۔
3 نومبر، 2023 کو غزہ شہر میں شفا ہسپتال کے داخلی دروازے پر ایمبولینسوں کے قافلے کو نشانہ بنائے جانے کے بعد فلسطینی ایک ایمبولینس کھینچ رہے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے جمعے کو غزہ کے الشفا ہسپتال کے باہر ایمبولنس پر اسرائیل کی فضائی کارروائی کو افسوسناک واقعہ قرار دیا ہے جبکہ اسرائیلی فوج نے اس حملے کو تسلیم کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ عسکریت پسند تنظیم حماس کے زیر استعمال اس ایمبولنس میں کئی جنگجو مارے گئے۔

ادھر اقوام متحدہ نے خبر دار کیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کی لڑائی میں ان کی پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہونے والی کوئی بھی عمارتیں محفوظ نہیں رہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس نے جمعے کو کہا کہ وہ ان رپورٹس سے سخت صدمے میں ہیں کہ مریضوں کو لے جانے والی ایمبولنس کو الشفا کے قریب حملے کا نشانہ بنایا گیا جس میں لوگوں کی اموات ہوئیں، لوگ زخمی ہوئے اور نقصان ہوا۔

انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، "مریضوں، صحت عامہ کے کارکنوں، مقامات اور ایمبولنسز کو ہر وقت اور ہمیشہ محفوظ رکھنا لازم ہے۔"

9 اکتوبر، 2023 کو غزہ میں ایک ویڈیو سے لی گئی اس سکرین گریب میں طبی عملے کا رکن ایک زخمی فلسطینی بچے کو لے جاتے ہوئے
9 اکتوبر، 2023 کو غزہ میں ایک ویڈیو سے لی گئی اس سکرین گریب میں طبی عملے کا رکن ایک زخمی فلسطینی بچے کو لے جاتے ہوئے

حماس کی حکومت نے کہا کہ اسرائیلی فورسز نے ایمبولنسز کے اس کارواں کو نشانہ بنایا جو زخمی لوگوں کو غزہ شہر سے علاقے کے جنوب میں رفح کی جانب لے جارہا تھا۔

دوسری طرف تل ابیب نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے اس ایمبو لنس پر حملہ کیا جس کو ایک ایسی گاڑی کے طور پر شناخت کی گیا تھا جسے حماس کا دہشت گرد سیل میدان جنگ میں اپنی پوزیشن کے قریب ہی استعمال کر رہا تھا۔

اسرائیلی فوج نے دعوی کیا کہ اس حملے میں حماس کے متعدد دہشت گرد مارے گئے۔

خبر رساں ادارے " ایجنسی فرانس پریس" نے خبر دی ہے کہ اس کے ایک نمائندے نے حملے کے بعد ایمبولنس کے باہر کئی لاشیں دیکھیں۔

خیال رہے کہ غزہ کے لوگ اس کھچا گھچ بھرے ہسپتال کو مریضوں کا علاج کرانے کے علاوہ پناہ گاہ کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے فلسطینی علاقوں کے معاون لن ہیسٹنگز نے بھی ایمبولنس پر حملے پر تشویش کا اظہار کیا کیونکہ اس میں مریضوں کو محفوظ جگہ پر لے جایا جارہا تھا۔

اسی اثنا میں اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں اس کی عمارتیں اسرائیل اور حماس کی لڑائی کی وجہ سے پناہ گاہوں کے طور پر محفوظ نہیں رہیں۔ لڑائی کے دوران عالمی ادارے کی 50 سے زائد عمارتیں تنازع سے 'متاثر' ہوئی ہیں، جن میں پانچ پر 'براہ راست حملے' بھی شامل ہیں۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے کے ایک عہدیدار تھامس وائٹ نے کہا کہ لاکھوں فلسطینیوں نے اقوام متحدہ کی تنصیبات میں پناہ لے رکھی ہے، جن میں زیادہ تر اسکول شامل ہیں۔

انہوں نے کہا، 'ہم انہیں اقوام متحدہ کے پرچم تلے بھی تحفظ فراہم نہیں کر سکتے۔'

شفا ہسپتال میں جہاں ایمبولنس پر حملہ ہوا بستروں پر مریضوں کی شرح 164 فیصد ہے اور ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ بجلی پیدا کرنے والے جنریٹرز کے لیے ایندھن کی کمی مریضوں کی زندگیوں کو فوری طور پر خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق غزہ کی حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ہڑتالوں سے ہونے والے نقصان اور ایندھن کی کمی کی وجہ سے غزہ بھر میں 16 ہسپتال اب کام نہیں کر رہے ہیں۔

وزارت صحت کے اعدادو شمار کے مطابق چار ہفتوں سے جاری جنگ میں اب تک 23 ہزار پانچ سوسے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 9 ہزار دو سوسے تجاوز کر چکی ہے۔

یرغمالی اسرائیلی بچوں کی رہائی کے لیے مختلف ممالک میں احتجاج

پیرس کے مشہور سیاحتی مقام آئفل ٹاور کے قریب یرغمالی اسرائیلی بچوں کی تصاویر خالی اسٹرالرز میں رکھ کر احتجاج کیا گیا۔ اسرائیلی بچے فلسطینی عسکری تنظیم حماس کی قید میں ہیں۔
1/10 پیرس کے مشہور سیاحتی مقام آئفل ٹاور کے قریب یرغمالی اسرائیلی بچوں کی تصاویر خالی اسٹرالرز میں رکھ کر احتجاج کیا گیا۔ اسرائیلی بچے فلسطینی عسکری تنظیم حماس کی قید میں ہیں۔
مزید Show less
نیویارک کے ٹائمز اسکوائر پر خالی ٹیبل اور کرسیوں پر یرغمالیوں کی تصاویر لگا کر احتجاج کیا گیا ہے۔
2/10 نیویارک کے ٹائمز اسکوائر پر خالی ٹیبل اور کرسیوں پر یرغمالیوں کی تصاویر لگا کر احتجاج کیا گیا ہے۔
مزید Show less
سوئٹزرلینڈ کے شہر جینیوا میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے سامنے احتجاج کا ایک منظر۔
3/10 سوئٹزرلینڈ کے شہر جینیوا میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے سامنے احتجاج کا ایک منظر۔
مزید Show less
احتجاج کا مقصد یرغمالیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ ہے۔
4/10 احتجاج کا مقصد یرغمالیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ ہے۔
مزید Show less
یروشلم میں ایک احتجاج کے دوران حماس کی جانب سے یرغمال بنائے جانے والوں کے نام کے پوسٹرز لگائے گئے ہیں۔
5/10 یروشلم میں ایک احتجاج کے دوران حماس کی جانب سے یرغمال بنائے جانے والوں کے نام کے پوسٹرز لگائے گئے ہیں۔
مزید Show less
تل ابیب میں  ٹیڈی بیئرز کی آنکھوں پر کالی پٹی باندھ کر یرغمالی بچوں کی تصاویر لگائی گئیں۔
6/10 تل ابیب میں  ٹیڈی بیئرز کی آنکھوں پر کالی پٹی باندھ کر یرغمالی بچوں کی تصاویر لگائی گئیں۔
مزید Show less
آسٹریلیا کی یہودی کمیونٹی نے یرغمالیوں کی یاد میں ایک اجتماع منعقد کیا۔ 
7/10 آسٹریلیا کی یہودی کمیونٹی نے یرغمالیوں کی یاد میں ایک اجتماع منعقد کیا۔ 
مزید Show less
اس اجتماع میں یرغمالی بچوں کے پوسٹر کے ساتھ غبارے اور ٹیڈی بیئرز بھی رکھے گئے ہیں۔
8/10 اس اجتماع میں یرغمالی بچوں کے پوسٹر کے ساتھ غبارے اور ٹیڈی بیئرز بھی رکھے گئے ہیں۔
مزید Show less
جینیوا میں یرغمالیوں کے نام کی خالی کرسیاں رکھ کر احتجاج کیا گیا۔
9/10 جینیوا میں یرغمالیوں کے نام کی خالی کرسیاں رکھ کر احتجاج کیا گیا۔
مزید Show less
اسرائیل میں ایک آرٹسٹ نے یرغمال بنائے گئے بچوں کی یاد میں دیوار پر ایک فن پارہ بنایا ہے۔
10/10 اسرائیل میں ایک آرٹسٹ نے یرغمال بنائے گئے بچوں کی یاد میں دیوار پر ایک فن پارہ بنایا ہے۔
مزید Show less
Previous slide
Next slide

فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے سات اکتوبر کو ہونے والے حملے سے شروع ہونے والی جنگ میں اسرائیل نے غزہ پر شدید بمباری جاری رکھی ہوئی ہے جبکہ امریکہ کے صدر جو بائیڈن سمیت عالمی رہنماوں اور اقوام متحدہ کے اداروں نے اس لڑائی میں فوری انسانی بنیادوں پر وقفے کا مطالبہ کیا ہے۔

تل ابیب کا کہنا ہے کہ اس کی جنگ کا مقصد حماس کو نیست و نابود کر نا ہے۔ اسرائیل کے وزیر اعظم بنجن نیتن یاہو نے جمعے کو امریکہ کے وزیر خارجہ انٹنی بلنکن کے دورے کے موقعے پر حماس کے قبضے میں یرغمالوں کی رہائی کے بغیر عارضی جنگ بندی کے مطالبے کو رد کر دیا ہے۔

(اس خبر میں شامل زیادہ تر معلومات اے ایف پی سے لی گئی ہیں)

This item is part of

فورم

XS
SM
MD
LG