رسائی کے لنکس

logo-print

افغان امن مذاکرات کا نیا دور قطر میں شروع، معاہدہ ہونے کی توقع


دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کا ایک منظر، فائل فوٹو

افغانستان میں امن لانے اور اپنی سرزمین سے باہر امریکہ کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کے کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے امریکہ اور افغان طالبان نے قطر میں امن مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا ہے۔

یہ مذاکرات ایک ایسے موقع پر ہو رہے ہیں جب شمالی افغانستان میں طالبان شورش پسندوں کے ساتھ جھڑپوں میں دو امریکی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان دو ہلاکتوں کے بعد اس سال افغانستان میں امریکی فوج کا جانی نقصان 14 ہو گیا ہے جو پچھلے سال 2018 کے مجموعی جانی نقصان سے زیادہ ہے۔

افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت دستخط ہونے سے پہلے جامع مباحثے کے لیے امریکہ طالبان معاہدے کا حتمی مسودہ دیکھے گی۔

انہوں نے کہا کہ معاہدہ سامنے لایا جائے گا۔ لیکن ابھی یہ معاہدہ طے نہیں ہوا۔ میں نے ابھی تک اس کا فائنل ڈرافٹ نہیں دیکھا۔ معاہدے کا فائنل ڈرافٹ ہمیں دیا جائے گا تاکہ ہم اس پر جامع بحث مباحثہ کر سکیں۔ لیکن ابھی یہ ابتدائی مرحلے میں ہے۔ ابھی اسے حتمی معاہدہ کہنا بہت قبل از وقت ہے۔

اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو واشنگٹن کو افغانستان سے امریکی قیادت کے غیر ملکی فوجی دستوں کے انخلا کی ایک ٹائم لائن کا اعلان کرنا ہو گا۔ اس کے جواب میں طالبان یہ ضمانت دیں گے کہ وہ بیرونی دہشت گردوں کو افغانستان کی سرزمین دوسرے ملکوں کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان ایک معاہدہ اشرف غنی کی حکومت اور طالبان کے درمیان بات چیت کی راہ ہموار کر سکتا ہے، جو مستقل جنگ بندی اور افغانستان کی مستقبل کی حکمرانی پر مرکوز ہو گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ بات زور دے کر کہہ چکے ہیں کہ طالبان کے ساتھ امن معاہدہ طے پا جانے کے باوجود، جس میں امریکی فوجی دستوں کا انخلا شامل ہے، واشنگٹن افغانستان میں داعش اور القاعدہ گروپس کے خلاف کارروائیوں کے لیے انٹیلی جنیس فورس کی نمایاں موجودگی برقرار رکھے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG