رسائی کے لنکس

logo-print

340 دنوں بعد مدار سے امریکی و روسی خلاباز کی زمین پر واپسی


اسکاٹ اب ایسے امریکی خلاباز بن گئے ہیں جنہوں نے خلا میں مستقل بنیادوں پر اتنا طویل عرصہ گزارا ہے۔ انھوں نے کرنیئنکو کے ساتھ مل کر دنیا کے گرد 5440 مرتبہ چکر لگایا اور جو کہ 14 کروڑ 40 لاکھ میل کی مسافت بنتی ہے

زمین کے مدار میں تقریباً 340 دن رہنے کے بعد امریکی خلاباز اسکاٹ کیلی اور روسی خلا باز میخائل کرنیئنکو بحفاظت زمین پر پہنچ گئے ہیں۔

روسی خلائی گاڑی سویوز ان دونوں اور ایک تیسرے خلاباز سرگئی وولکوف کو لے کر بدھ کی صبح قازقستان میں اتری۔

اس کی زمین پر آمد بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے علیحدگی کے تین گھنٹے کے بعد ہوئی۔

وولکوف گزشتہ چھ ماہ سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں تعینات تھے جو کہ یہاں پر کسی بھی عملے کے لیے متعین کردہ عرصہ ہے۔

اسکاٹ اب ایسے امریکی خلاباز بن گئے ہیں جنہوں نے خلا میں مستقل بنیادوں پر اتنا طویل عرصہ گزارا ہے۔ انھوں نے کرنیئنکو کے ساتھ مل کر دنیا کے گرد 5440 مرتبہ چکر لگایا اور جو کہ 14 کروڑ 40 لاکھ میل کی مسافت بنتی ہے اور ان دونوں نے مدار میں 10880 مرتبہ طلوع و غروب آفتاب دیکھا۔

ان دونوں خلابازوں کے مشن کا مقصد یہ جاننا تھا کہ کشش ثقل کے بغیر ماحول میں طویل عرصہ تک رہنے سے انسانی جسم اور دماغ پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کے نتائج سے مستقبل میں کئی سالوں پر محیط مشن بھیجنے کی منصوبہ سازی ہوگی جو کہ مریخ یا نظام شمسی کے دیگر حصوں میں عملے کو بھیجنے کے لیے ضروری ہے۔

اسکاٹ کیلی کا اس مشن کے لیے انتخاب بھی ایک منفرد تجربہ تھا کیونکہ ان کے جڑواں بھائی مارک کیلی، جو کہ خود بھی ایک خلاباز رہ چکے ہیں، نے خود کو اس تجربے کے لیے پیش کیا تھا کہ ایک سال تک خلا میں رہنے والے ان کے بھائی اور خود ان کے زمین پر رہنے سے دونوں کے جسم یا دماغ میں کیا تبدیلیاں رونما ہوں گی۔

XS
SM
MD
LG