رسائی کے لنکس

سنائی میں کشیدگی کا انسداد، مصر کو مربوط حکمتِ عملی اپنانی ہوگی: ماہرین


بیر العبد، سنائی

مصر کے صدر عبدالفتح السیسی نے گذشتہ ہفتے اپنی سکیورٹی فورسز کو حکم دیا تھا کہ تین ماہ کے اندر اندر مسئلے سے دوچار جزیرہ نما سنائی میں ’’سلامتی اور استحکام‘‘ کی بحالی کے لیے ’’تمام سخت ترین طاقت‘‘ استعمال کی جائے

نور زاہد، محمد الشناوی

واشنگٹن میں دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کرنے والے چند سرکردہ ماہرین نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا ہے کہ مصر کو اس بات کی ضرورت ہے کہ مسئلے سے نمٹنے کے لیے بہتر حکمتِ عملی اپنائے، جسے دہشت گردوں سے بڑھتے ہوئے خدشات درپیش ہیں۔

مصر کے صدر عبدالفتح السیسی نے گذشتہ ہفتے اپنی سکیورٹی فورسز کو حکم دیا تھا کہ تین ماہ کے اندر اندر مسئلے سے دوچار جزیرہ نما سنائی میں ’’سلامتی اور استحکام‘‘ کی بحالی کے لیے ’’تمام سخت ترین طاقت‘‘ استعمال کی جائے۔

اِن احکامات سے قبل گذشتہ ماہ شمالی سنائی کے ایک گاؤں، روادہ کی نمازیوں سے بھری صوفی مسجد کو مہلک دہشت گرد حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں 300 سے زائد عبادت گزار ہلاک ہوئے، جسے مصر کی جدید تاریخ میں اسلامی انتہا پسندوں کی جانب سے اب تک کا سنگین حملہ تھا۔ ہلاک ہونے والے 302 افراد میں سے 27 بچے شامل تھے؛ جب کہ 128 افراد زخمی ہوئے۔

السیسی کی حکومت شمالی سنائی میں بڑھتی ہوئی پُرتشدد بغاوت کے خلاف سنگین لڑائی میں جُتی ہوئی ہے، جہاں متعدد شدت پسند گروپ، جن میں ’انصار بیت المقدس‘ بھی شامل ہے، جس نے داعش کے شدت پسند گروپ سے عہدِ وفاداری کر رکھا ہے، وہ چند برسوں سے سرگرمِ عمل ہیں۔

شدت پسند گروپ خطے میں پولیس، سلامتی افواج اور اقلیتی قبطی برادری کو ہدف بناتا رہتا ہے۔

جزیرے میں تشدد کی اِن کارروائیوں نے اُس وقت سر اٹھایا جب 2013ء میں مصر کی فوج نے اسلام نواز صدر محمد مرسی کا تختہ الٹا۔ تب سے، جزیرہ نما سنائی میں 1700 دہشت گرد حملے ہوچکے ہیں، جن میں تقریباً 1000 سے زائد سکیورٹی اہل کار مارے جا چکے ہیں۔ یہ بات واشنگٹن میں قائم مشرق وسطیٰ سے متعلق پالیسی کے ’تحریر انسٹی ٹیوٹ‘ نے بتائی ہے۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ صوفی مسجد پر حملے سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ دہشت گردی کے انسداد کے لیےحکومت کا موجودہ انداز کامیاب نہیں رہا، اور ملک کو ایک مربوط حکمتِ عملی درکار ہے، ناکہ فروغ پاتی ہوئی شدت پسندی کو شکست دینے کے لیے محض کسی میعاد کا تعین کر دینا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG