رسائی کے لنکس

ایک اور بھارتی فوجی کا سوشل میڈیا پر احتجاج

  • سہیل انجم

فائل

سندھو جوگی داس نے ویڈیو میں کہا ہے کہ فوج واحد سروس ہے جہاں جوانوں کو افسروں کی خدمت کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

بھارتی فوج کے ایک اہلکار نے جسے چھٹی کے بعد تاخیر سے لوٹنے پر سزا کے طور پر اردلی کا کام کرنے پر مجبور کیا گیا تھا سوشل میڈیا پر اپنی ایک احتجاجی ویڈیو پوسٹ کی ہے۔

سندھو جوگی داس نامی فوجی اہلکار کی یہ ویڈیو ان دنوں بھارت میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے جس میں اہلکار نے برطانوی دور سے فوج میں رائج اس روایت کے خلاف آواز بلند کی ہے جس کے تحت اہلکاروں کو افسروں کی خدمت پر مامور کیا جاتا ہے۔

سندھو جوگی داس نے ویڈیو میں کہا ہے کہ فوج واحد سروس ہے جہاں جوانوں کو افسروں کی خدمت کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

اہلکار نے اپنی ویڈیو میں دعویٰ کیا ہے کہ اسے ایک شکایت کرنے پر سزا دی گئی اور اسے یقین ہے کہ آرمی اس کی شکایت نہیں سنے گی۔

اہلکار کا مزید کہنا ہے کہ وہ فوج کے بارے میں سوشل میڈیا پر یا سرِ عام بات نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی دوسرا چارہ نہیں۔

جوگی داس نے ویڈیو میں الزام عائد کیا ہے کہ شکایات کے ازالے کے لیے آرمی کی جانب سے دیے گئے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کرنے پر بھی اس کی شکایت کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

اہلکار کے بقول اس نے وزیر اعظم اور وزیر دفاع کے دفاتر سے بھی رابطہ قائم کیا لیکن کوئی جواب نہیں ملا بلکہ اس کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا گیا۔

جوگی داس نے ایک بھارتی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جب اس نے اردلی کا کام کرنے سے انکار کیا تو اسے ہراساں کیا جانے لگا۔ اسے سات روز تک آرمی جیل میں قید رکھا گیا۔ اہلکار نے الزام عائد کیا کہ آرمی افسران جوانوں کے ساتھ غلاموں جیسا برتاؤ کرتے ہیں۔

جوگی دا س کے ان الزامات پر بھارتی فوج نے تاحال کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ البتہ فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ جوگی دا س کا تقرر سپاہی ہاؤس کیپر کی حیثیت سے ہوا تھا جس کا مطلب ہے کہ صفائی ستھرائی کا کام اس کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

اس سے قبل بھی بھارتی فوج کے ایک اہلکار رائے میتھیو نے اردلی نظام کے خلاف آواز بلند کی تھی جس کے بعد وہ لاپتا ہو گیا تھا اور گزشتہ ہفتے ریاست مہاراشٹرا کی دیولالی چھاونی کی ایک خالی بیرک سے اس کی لاش ملی تھی۔

بھارتی فوج کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ رائے میتھیو نے خودکشی کی ہے۔ لیکن اہلکار کے اہل خانہ نے خود کشی کے دعوے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اس کی موت کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

بھارتی وزیر دفاع منوہر پریکر نے رائے میتھیو کی پراسرار ہلاکت پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ایک نیوز ویب سائٹ کے اسٹنگ آپریشن کے دوران بنائی جانے والی ایک ویڈیو میں رائے میتھیو کئی فوجی جوانوں کے ساتھ دیکھا گیا تھا جس میں وہ فوج میں رائج نظام پر نکتہ چینی کر رہا تھا۔

ویڈیو میں رائے میتھیو کو دیولالی چھاؤنی میں دیگر جوانوں کے ساتھ افسروں کے کتے ٹہلاتے اور ان کے بچوں کو اسکول چھوڑتے ہوئے بھی دکھایا گیا تھا۔

اس سے قبل بھی بھارتی فوج اور نیم فوجی دستوں کے متعدد اہلکاروں کی جانب سے سوشل میڈیا پر ویڈیوز کے ذریعے فوجی بیرکوں میں خراب کھانے اور دیگر مبینہ زیادتیوں کی شکایتیں منظرِ عام پر آچکی ہیں جن پر ذرائع ابلاغ اور سیاسی و سماجی حلقوں میں کافی لے دے ہوئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG