رسائی کے لنکس

logo-print

2018: صدر ٹرمپ اور میڈیا کے درمیان محاذ آرائی کا سال


فائل فوٹو

یہ گزرتا سال امریکی صدر ٹرمپ اور اُن رپورٹروں کے درمیان شدید محاذ آرائی کا سال رہا جو ٹرمپ انتظامیہ کی کوریج پر مامور ہیں۔ صدر ٹرمپ بدستور صحافیوں کو ’’عوام کا دشمن‘‘ قرار دے رہے ہیں۔

چھ ماہ قبل بندوق سے مسلح ایک شخص نے ایک خبر پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اخبار کیپٹل گزٹ کے دفتر میں گھس کر پانچ افراد کو قتل کر دیا تھا۔ تاہم اخبار نے اپنا کام جاری رکھا۔ اخبار کے مدیر رِک ہٹ زل کا کہنا تھا کہ ہم جو کام کرتے ہیں وہ اس ملک کیلئے انتہائی اہم ہے اور یہ ہماری طرز زندگی کیلئے بہت ضروری ہے۔ لہذا اسے جاری رکھا جائے گا۔

میری لینڈ کے اس اخبار کے عملے کو ٹائم میگزین نے 2018 کے بہترین افراد کے خطاب سے نوازا۔ ٹائم میگزین نے قتل ہونے اور گرفتار ہونے والے صحافیوں کو خاص مقام دیا۔ کیپٹل گزٹ کے مدیر رِک کہتے ہیں کہ اُن کے ان رفقاء کی موت نے تمام صحافیوں کی زندگیوں کو بدل کر رکھ دیا ہے اور اس واقعے کے بعد سے لوگ اب اُن کے کام کی اہمیت سے بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اس کام کیلئے صحافیوں کو البتہ خاصی قیمت چکانی پڑتی ہے۔

اور یہ قیمت بڑھتی جا رہی ہے۔ صحافیوں کی عالی تنظیم ’’رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘‘ نے پہلی مرتبہ ایسے ممالک کی فہرست مرتب کی ہے جہاں صحافی شدید خطرات سے دوچار ہیں۔ ان ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔

صدر ٹرمپ کے حامیوں نے اس سال اکتوبر میں سی این این اور صدر ٹرمپ کی مخالف اعلیٰ سیاسی شخصیات کو پائپ بم بھجوائے تھے۔

ناقدین نے صدر ٹرمپ پر الزام لگایا ہے کہ اُنہوں نے صحافیوں کو لوگوں کا دشمن قرار دے کر اس تناؤ میں اضافہ کیا ہے۔’’ فرسٹ امینڈمنٹ سینٹر ‘‘کے لاٹا نوٹ کا کہنا ہے کہ میڈیا کا کردار حکومت پر تنقید کرنا ہے۔ لیکن اُن کو غیر محب وطن ہونے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

تاہم صدر ٹرمپ اور اُن کے حامی اس الزام کو مسترد کرتے ہیں کہ اُن کے بیانات نے تشدد کو ہوا دی ہے۔ صدر ٹرمپ کہتے ہیں، ’’میڈیا کی مسلسل جاری دشمنی پر مبنی غیر منصفانہ کوریج اور اُس کے منفی حملے لوگوں میں تقسیم کا باعث بن رہے ہیں اور اس سے صحتمندانہ مباحثوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔‘‘

صدر ٹرمپ نے سی ین این کے رپورٹر پر برستے ہوئے وائٹ ہاؤس کا صحافتی پاس بھی منسوخ کر دیا تھا۔ سی این این نے اس حوالے سے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا جس کے بعد وائٹ ہاؤس کو مزکورہ صحافی کو صحافتی پاس دوبارہ جاری کرنا پڑا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے ترجمان کے ذریعے پیغامات دینے کے بجائے خود ٹویٹ کا سہارہ لینے کو ترجیح دی۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان کی روایتی بریفنگ کی تعداد بھی بدستور کم ہوتی جا رہی ہے۔ ’’وائٹ ہاؤس کارسپانڈنٹس ایسوسی ایشن‘‘ کے اولیوئر ناکس نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ ٹرمپ انتظامیہ کے کسی انتہائی سینئر عہدیدار سے بات کریں اور اُس سے صدر ٹرمپ کی کسی پالیسی کے بارے میں کوئی سنجیدہ سوال پوچھیں تو اُس کا جواب یہی ہو گا کہ اس بارے میں ابھی صدر ٹرمپ نے کوئی ٹویٹ نہیں کی ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ امریکہ کے ایک ایسے صدر ہیں جنہوں نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے 560 مرتبہ میڈیا سے براہ راست بات چیت کی ہے اور یہ تعداد اُن کے دو پیش رو صدور براک اوباما اور جارج بش سے کہیں زیادہ ہے۔

تاہم صدر ٹرمپ اپنے ترجمان کے ذریعے اطلاعات پہنچانے کے بجائے خود اچانک میڈیا سے براہ راست گفتگو کو ترجیح دیتے ہیں۔ اب ترجمان کی جانب سے میڈیا کو دی جانے والی روزانہ بریفنگ کی روایت بظاہر ختم ہوتی جا رہی ہے اور سنہ 2018 کے آخری چند ماہ کے دوران ان میں بتدریج کمی دیکھی گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG