رسائی کے لنکس

logo-print

بحر منجمد شمالی میں ایک مرتبہ پھر برف کے پھیلاؤ میں ریکارڈ کمی


این ایس آئی ڈی سی اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ آرکٹک میں برف میں کمی کس طرح باقی دنیا کو متاثر کرے گی۔

یہ دوسرا مسلسل سال ہے جب بحر منجمد شمالی میں موسم سرما میں برف کے پھیلاؤ کی اب تک ریکارڈ کی جانے والی سطح سب سے کم رہی۔

امریکہ کے نیشنل سنو اینڈ آئس ڈیٹا سینٹر (این ایس آئی ڈی سی) اور ناسا نے نئے اعداد و شمار کا پیر کو اعلان کیا تھا۔

اس سال موسم سرما میں اپنے عروج پر آرکٹک برف نے اوسطاً ایک کروڑ 45 لاکھ 20 ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ ڈھک رکھا تھا۔ یہ گزشتہ سال کی کم ترین سطح سے بھی کم ہے جب برف نے ایک کروڑ 45 لاکھ 40 ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ گھیر رکھا تھا۔

این ایس آئی ڈی سی کے سائنسدان ٹیڈ سکیمبوز کے مطابق ’’آرکٹک بحران میں ہے ۔۔۔ آرکٹک میں موسموں، ماحولیاتی نظام، ساحل اور انسانی سرگرمیوں کو نئی شکل دینے والی تبدیلیاں جاری ہیں۔‘‘

انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ’’یہ بہت تیزی سے ہو رہا ہے۔ پچھلے صرف 15 سالوں میں اتنی اہم تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور یہ اگلی چند دہائیوں میں اسی رفتار سے جاری رہیں گی۔‘‘

این ایس آئی ڈی سی اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ آرکٹک میں برف میں کمی کس طرح باقی دنیا کو متاثر کرے گی۔

مثلاً بحر اوقیانوس میں گرم پانی بیرنٹس سمندر میں غیر معمولی طور پر برف کی کم سطح کی وجہ ہے۔

مگر کچھ مطالعوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرہ ارض میں پانی کی گردش کے بڑے نمونوں میں تبدیلیوں کا اثر شاید اس کے برعکس ہو۔

سائنسدان یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کس طرح سمندری برف پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ اس لیے وہ سمندری برف کی سطح کی نگرانی کرتے رہتے ہیں۔ اس کا اگلا اہم موقع ستمبر میں آئے گا جب این ایس آئی ڈی سی موسم گرما کے بعد پگھلی ہوئی سمندری برف کی سطح کی پیمائش کریں گے۔

اکیسویں صدی میں اس سے قبل آرکٹک میں پگھلی ہوئی برف کی تین مرتبہ کم سے کم سطح ریکارڈ کی جا چکی ہے۔ پہلی مرتبہ 2005 میں، دوسری مرتبہ 2007 اور تیسری مرتبہ 2012 میں برف کی کم سے کم سطح ریکارڈ کی گئی۔

XS
SM
MD
LG