رسائی کے لنکس

logo-print

کیا شوہر یا بیوی کی حکمرانی شادی کو کامیاب بنا سکتی ہے؟


نتیجے سے یہ بھی وضاحت ہوئی ہے کہ شادی شدہ جوڑوں میں شوہر یا بیوی میں سے کسی ایک کی حکمرانی سے ازداوجی تعلقات اور بھی زیادہ مستحکم ہو جاتے ہیں۔

کیا شادی شدہ جوڑوں میں سے کسی ایک کی حکمرانی ازدواجی رشتے کے لیے اچھی ثابت ہوسکتی ہے ؟ ممکن ہے کہ سائنسدانوں کےجواب سے آپ اتفاق نا کریں لیکن نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ شادی کا بندھن اس وقت اور بھی زیادہ مضبوط ہوجاتا ہے جب یہاں حکومت صرف ایک کی چلتی ہے۔

نتیجے سے یہ بھی وضاحت ہوئی ہے کہ شادی شدہ جوڑوں میں شوہر یا بیوی میں سے کسی ایک کی حکمرانی سے ازداوجی تعلقات اور بھی زیادہ مستحکم ہو جاتے ہیں۔

جمہوریہ چیک سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایسے شادی شدہ جوڑے جن میں شوہر یا بیوی میں سے کوئی ایک غالب ہے ان کا رشتہ ایسے جوڑوں کے مقابلے میں زیادہ موثر ہو سکتا ہے جن کا ازدواجی رشتہ برابری کی سطح پر قائم ہوتا ہے۔

جریدہ 'نیورواینڈوکرنا لوجی' کے سائنسی پرچہ میں محققین نےکہا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ خواتین مطیع یا فرماں بردار مردوں کو ترجیح دیتی ہیں کیونکہ بہتر تعاون ازدواجی رشتے کی کامیابی کا ذمہ دار ہے۔

نتائج سے ظاہر ہوا کہ شرکاء جوڑوں میں سے ایک چوتھائی خواتین اپنی شادی شدہ زندگی میں حکمرانی کر رہی تھیں۔

تحقیق کی قیادت کرنے والی ڈاکٹر ایوا جوزف کووا نے کہا کہ''ہمارے یہاں شریک حیات میں سے کسی ایک کی نیازی مندی یا ہلکے سے غلبے کو ایک بڑے مسئلے کی طرح دیکھا جاتا ہے ۔''

ڈاکٹر جوزف کووا نے کہا کہ ہمارے نتائج اس خیال کو چیلنج کرتے ہیں جس میں ازدواجی تعلقات کی مضبوطی کے لیے برابری کی سطح پر قائم ہونے والے رشتے کو فوقیت دی جاتی ہے۔

"ہمارے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ اس رشتے میں عدم مساوات یعنی شریک حیات میں سے کسی ایک کا غالب ہونا اور دوسرے کے فرماں بردار ہونا دونوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ایک وجہ ہے اور اسی تعاون کی وجہ سے ان جوڑوں میں زندگی کی مشکلات کا سامنا کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے جبکہ نتائج بتاتے ہیں کہ ایسے جوڑے اولاد کی نعمت کے حوالے سے زیادہ خوش قسمت واقع ہوتے ہیں۔''

پرکائن یونیورسٹی ' اور 'چارلس یونیورسٹی' پراگ سے وابستہ محققین نے کہا کہ نتائج کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جدید معاشرے میں ازدواجی رشتے میں برابری کی جانب دباؤ اور روایتی معاشروں میں اس رشتے میں مرد کے غلبے کی جانب دباؤ دونوں ہی ضرورت سے زیادہ ہیں اور جبر کی ایک قسم کی نمائندگی کرتے ہیں۔

تجربے میں شامل 340 جوڑوں کو دوستوں، رشتہ داروں اور شریک حیات جیسے قریبی رشتوں میں حکمرانی کرنے کے حوالے سے پرکھا گیا۔

محققین نے کہا کہ مطالعے کا نتیجہ حیران کن نہیں تھا ''وہاں برابری کی بنیاد پر ازدواجی رشتہ نبھانے والے جوڑوں کے مقابلے میں ایسے جوڑوں کی تعداد زیادہ تھی جن میں ایک شریک حیات نمایاں طور پر حاوی تھا علاوہ ازیں شرکاء کی رپورٹ کے مطابق 24.4فیصد تعلقات میں خواتین کا پلہ بھاری تھا۔''

جبکہ انہی جوڑوں میں زیادہ بچوں کا امکان 15 فیصد زیادہ تھا اس نتیجے کے برعکس دوسری طرف رشتے میں برابری رکھنے والے جوڑوں کے ہاں تولیدی کامیابی کے امکانات کم تھے ۔

محقق ڈاکٹرجوزف کووا نے کہا کہ ''اگر دو افراد ایک ہی عہدے پر فائزکر دئیے جائیں تو معمولی تنازعات بھی مسابقت کی وجہ سے شدید ہو سکتے ہیں جبکہ دوسری طرف ایسے جوڑے جن میں کسی ایک ساتھی کے پاس اپنے رشتے کی کمان ہوتی ہے ان میں تنازعات کے تعداد اور شدت میں کمی آجاتی ہے۔"

انھوں نے کہا کہ ''ہمارے مطالعے سے نظر آتا ہے کہ شادی شدہ جوڑوں کےدرمیان تعاون کا ہونا زیادہ ضروری ہے بجائے اس کے کہ یہ دیکھا جائے کہ ازدواجی رشتے پر غالب آنے والا شخص مرد ہے یا عورت ہے۔''

محققین نے اس بات پر زور دیا کہ کسی ایک ساتھی کے حاوی ہونےکا مطلب ہرگز تشدد نہیں ہے اگرچہ عام طور پر اس قسم کے رشتہ کو گھریلو تشدد کے ساتھ مخصوص کیا جاتا ہے لیکن مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ شادی شدہ جوڑوں میں سے کسی ایک کی ہلکی پھلکی حکمرانی بھی تشدد کی وجہ نہیں بن سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG