رسائی کے لنکس

پاکستان: تقریباً ایک لاکھ افراد تھیلسیمیا میجر سے متاثر


فائل فوٹو

پاکستان میں ہر سال پیدا ہونے والے بچوں میں چھ ہزار بچے ایسے ہیں جو تھیلسیمیا میجر کے مرض کے ساتھ پیدا ہو رہے ہیں

پاکستان کی وفاقی وزیرِ صحت سائرہ افضل تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان میں تھیلسیمیا میجر سے متاثرہ مریضوں کی تعداد لگ بھگ ایک لاکھ ہے۔

سائرہ افضل نے یہ بات پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں ایک سوال کے تحریری جواب میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال پیدا ہونے والے بچوں میں چھ ہزار بچے ایسے ہیں جو تھیلسیمیا میجر کے مرض کے ساتھ پیدا ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے ہر سال اس مرض سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

تاہم سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ یہ حتمی اعدادوشمار نہیں ہیں کیونکہ ملک میں تھیلسیمیا سے متاثرہ مریضوں سے متعلق کوئی باضابطہ سروے نہیں کیا گیا ہے۔

دوسری طرف طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں ایسے افراد کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے جو تھیلسیمیا میجر کے مرض میں متبلا ہے اور یہ ایک تشویشناک امر ہے۔

اسلام آباد میں قائم ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک موروثی بیماری ہے اور ان کے بقول جب دونوں والدین کی جینیات میں تھیلسیمیا مائنر کے جراثیم موجود ہوتے ہیں تو اس کی وجہ سے یہ جراثیم ان کے بچوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر جاوید نے کہا ایسے جوڑوں کے ہاں پیدا ہونے والے نصف بچے تھیلے سیمیا میجر اور باقی نصف تھیلسیمیا مائنر کا شکار ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تھیلسیمیا میجر سے متاثرہ بچوں میں خون صحیح طور پر نہیں بنتا ہے اور ان کے خون میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ سے 'ہیم' یا آئرن خارج ہوتا ہے جو مختلف اعضاء خاص طور پر جگر، دل، لبلبے اور ہڈیوں میں جمع ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ اعضاء صحیح طور پر کام نہیں کرسکتے اور ایسے بچے صحت کے مسائل کا شکار ہو کر وقت سے پہلے چل بستے ہیں۔

ڈاکٹر جاوید نے مزید کہا کہ ان بچوں کو زندگی بھر انتقالِ خون کی ضرورت رہتی ہے اوران کے بقول بون میرو ٹرانسپلانٹ کے ذریعے تھیلسیمیا میجر کے مرض میں متبلا بچوں کی زندگی بچائے جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صرف اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال میں اب تک 200 سے زائد ایسے بچوں کے بون میرو ٹرانسپلانٹ ہو چکے ہیں جو تھیلسیمیا میجر کے مرض مین مبتلا تھے۔

تاہم ڈاکٹر جاوید اکر م نے کہا کہ اس بیماری سے بچاؤ کا واحد راستہ شادی سے پہلے مرد اور عورت کا جینیاتی اسکریننگ کا ٹیسٹ ہے۔

ان کے بقول اگر دونوں میں تھیلسیمیا مائنر کے جراثیم موجود ہوں تو وہ اگر آپس میں شادی کریں گے تو یہ مرض ان کے بچوں میں بھی منتقل ہوسکتا ہے لیکن اگر ان میں سے ایک فرد میں یہ جینیات موجود ہیں لیکن اگر وہ کسی نارمل فرد سے شادی کرے گا تو یہ مرض ان کے بچوں کو منتقل نہیں ہو گا۔

پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر چودھری تنویر نے گزشتہ سال شادی سے قبل مرد اور عورت کا تھیلسیمیا کا ٹیسٹ کرانے کو ضروری قرار دینے کا بل سینیٹ میں پیش کیا تھا تاکہ تھیلسیمیا سے متعلق عوام میں شعور و آگہی پیدا کی جا سکے۔

سینیٹر تنویر نے بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ یہ بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں زیرِ غور ہے اور کمیٹی نے اس مجوزہ بل پر وزارت قانون و انصاف، وزارتِ مذہبی امور اور وزارتِ صحت سے رائے طلب کر رکھی ہے۔

ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی ایسے ممالک جہاں تھیلسیمیا کا مرض موجود تھا، انہوں نے شادی سے قبل ٹیسٹ کو ضروری قرار دینے کا قانون وضع کیا جس کی وجہ سے ان ملکوں کو اس مرض کو کنٹرول کرنے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

ڈاکٹر جاوید نے بتایا کہ پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق لگ بھگ ایک کروڑ افراد ایسے ہیں جو تھیلسیمیا کا شکار ہیں اور ان میں سے ایک بڑی اکثریت ان افراد کی ہے جو تھیلسیمیا مائنر میں متبلا ہے تاہم ان کے بقول وہ اس سے آگاہ نہیں ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG