رسائی کے لنکس

logo-print

زہر آلود پانی، لاکھوں افراد میں بیماریوں کا سبب


یورپ سے تعلق رکھنے والے ایک سائنسدان روڈ ریگز لاڈو کی جانب سے تیارکردہ اس آلے کا تجربہ چین میں کیا گیا۔

دنیا بھر میں ایک کروڑ چالیس لاکھ افراد کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں ہے اور جو پانی وہ پیتے ہیں وہ زہر آلود ہوتا ہے۔

زہر آلود پانی میں سنکھیتا ہوتا ہے۔ سنکھیا ایک ایسا کیمیائی مادہ ہے جو چٹانوں اور مٹی میں پایا جاتا ہے۔ اگر یہ کیمیائی مادہ پانی میں شامل ہو جائے تو انسانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال وہاں زیادہ خراب ہو جاتی ہے جہاں پر لوگوں کے پاس زمین سے پانی نکال کر پینے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں۔

سائنسدانوں نے اب ایک ایسا آلہ بنایا ہے جس سے پانی میں موجود سنکھیا کی مقدار کو ناپا جا سکتا ہے۔

یورپ سے تعلق رکھنے والے ایک سائنسدان روڈ ریگز لاڈو کی جانب سے تیارکردہ اس آلے کا تجربہ چین میں کیا گیا۔

اس ضمن میں چین میں موجود تمام کنوؤں کے پانی پر تجربہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے۔ آلہ ایجاد کرنے والے سائنسدان روڈ ریگز لاڈو کہتے ہیں کہ چین اتنا بڑا ملک ہے کہ روایتی طریقوں سے اس کام کو مکمل ہوتے کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں لیکن ان کے آلے کے استعمال کے بعد اس عمل میں تیزی لائی جا سکتی ہے۔

روڈ ریگز لاڈو کے الفاظ، ’ہمارے بنائے ہوئے ماڈل سے ان علاقوں کی جلد نشاندہی کی جا سکتی ہے جہاں پر پینے کے پانی میں سنکھیا خطرناک شرح تک موجود ہے۔ اس سے ہم ان علاقوں میں جہاں پینے کے پانی میں سنکھیا بڑی مقدار میں موجود ہے، نہ صرف نشاندہی کر سکتے ہیں بلکہ ہنگامی بنیادوں پر وہاں کام کرکے وقت اور پیسہ بھی بچایا جا سکتا ہے۔‘

یونیورسٹی آف ڈیلاوئیر سے تعلق رکھنے والی ہولی مائیکل کہتی ہیں کہ اس ماڈل کی مدد سے نہ صرف ان علاقوں کی نشاندہی ہوگی جہاں پانی میں سنکھیا موجود ہے بلکہ ماڈل میں موجود علاقے میں آبادی کے تناسب کا حساب کرکے یہ تعیّن بھی کیا جا سکتا ہے کہ وہاں کی آبادی کو زہر آلود پانی سے کون کونسے طبّی مسائل لاحق ہو سکتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG